Share this link via
Personality Websites!
بے نمازی مسلمان گویا تصویر کا آدمی ہے کہ ظاہر ِصورت اِنسان کی مگر اِنسان کا کام کچھ نہیں۔ بے نمازی وہی نہیں جو کبھی نہ پڑھے بلکہ جو ایک وقت کی نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑ دے وہ بھی بے نمازی ہے۔([1]) آپ رحمۃُ اللہ علیہ خود نمازِ باجماعت کا کتنا اہتمام فرماتے اس کے مُتَعَلِّق مولانا حسنین رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ان کے ہم عُمْروں سے اور بعض بڑوں کے بیان سے معلوم ہوا کہ وہ اِبتدائے شُعُور ہی سے نمازِ باجماعت کے سخت پابند رہے،گویا بالغ ہونے سے پہلے ہی وہ اَصحابِ تَرتیب لوگوں میں داخِل ہو چکے تھے اور وقتِ وفات تک صاحبِ تَرتیب ہی رہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے اعلیٰ حضرت کی ! ہمارے امام ہمارے امام بچپن سے لے کر آخری وقت تک صاحبِ ترتیب رہے۔ جس شخص کی 6سے کم نمازیں قضا ہوئی ہوں اُس کو صاحبِ ترتیب کہتے ہیں۔([3])
خوب سختی سے اصولِ دیں پہ کرتے تھے عمل استقامت ہی تھا ان کی زندگی کا ماحصل
معرفت کے نور سے روشن کیا قلبی نظام وقت پر ہر فرض ہر واجب کا رکھا اہتمام
ہرادا تھی مصطفیٰ کے عشق کی آئینہ دار یعنی ان کی شخصیت تھی ہر طرح سے بے غبار
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ آپ خَیْر خواہِ اُمّت ہیں۔ آپ کی سیرتِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami