Share this link via
Personality Websites!
تلاشی لیں تو شاید ایک بھی فضیلت والی بات اپنے اندر نظر نہ آئے مگر افسوس! ہیں تو سراپا گُنَاہ لیکن اپنے آپ کو سمجھ نہ جانے کیا بیٹھے ہیں۔کاش! ہم اپنے آپ کو کچھ سمجھنا چھوڑ دیں، کاش! سَر جھکانا، اپنے آپ کو بالکل ناکارہ، نکما سمجھنا اور پِھر اس کے مطَابق نہایت عاجزی کے ساتھ زندگی گزارنا نصیب ہو جائے۔ حدیثِ پاک میں ہے؛ آخری نبی، رسولِ ہاشمی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللہ جو بھی اللہ پاک کے لیے عاجزی اِختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرما دیتا ہے۔ ([1])ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: اَلتَّوَاضُعُ لَا یَزِیْدُ الْعَبْدَ اِلّا رِفْعَۃً فَتَوَاضَعُوْ ا یَرْفَعَکُمُ اللہ عاجزی بندے کو صِرْف بلندی ہی عطا کرتی ہے، پس عاجزی کیا کرو! اللہ پاک تمہیں بلند رُتبہ عطا فرما دے گا۔ ([2])
اللہ پاک ہمیں عاجزی اپنانے اور تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی ساری زندگی علم و عمل کی آئینہ دار ہے، آپ رحمۃُ اللہ علیہ کو نماز سے خاص محبت و رغبت تھی یہی وجہ تھی کہ آپ نہ صرف خود باجماعت نمازوں کی پابندی فرماتے بلکہ اپنے مُریدین و مُتَعَلِّقین میں نمازِ باجماعت کا خوب جذبہ بیدار کرتے تھے۔اس تَعَلُّق سے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: پانچوں نمازوں کی پابندی نہایت ضَروری ہے، مَردوں کو مسجد و جماعت کی پابندی بھی واجِب ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami