Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک قرآنِ کریم میں اشاد فرماتا ہے:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پارہ:19، سورۂ فرقان:63)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور رحمٰن کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں ۔
یعنی کامل ایمان والوں کا اپنے نفس کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ اطمینان اور وقار کے ساتھ، عاجزانہ شان سے زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ مُتکبرانہ طریقے پر جوتے کھٹکھٹاتے، پاؤں زور سے مارتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے۔([1])
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کا اس آیت پر پورا پورا عمل تھا، آپ رحمۃُ اللہ علیہ جب چلتےتو نہایت عاجزی اور انکساری کرتے ہوئے چلتے تھے۔منقول ہے کہ جب آپ رحمۃُ اللہ علیہ مسجد سے فارغ ہوکر واپس تشریف لے جاتے تو نہایت آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتےہوئے چلتے،ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ ہر قدم پر کچھ پڑھتے ہوئے جارہے ہیں،چلتے وقت نگاہیں اکثر نیچی رہا کرتیں مگر کبھی سامنے بھی دیکھ لیا کرتےتھے۔([2])
حُسنِ سیرت سے مُزَّین تھے امام احمدرضا مُنْفَرِد اُن کے خَصائل اور نِرالی تھی ادا
اُن کی جملہ خوبیوں پر خوبیوں کو نَاز تھا کیونکہ اُن کی زندگی کا مُنْفَرِد انداز تھا
عاجزی وانکساری سے بلندی ملتی ہے
کاش! ہمیں بھی عاجزی و انکساری نصیب ہوجائے *ہم تَو کوئی بہت بڑے عالِم فاضِل بھی نہیں ہیں *بہت بڑے عبادت گزار بھی نہیں ہیں *اِنْصاف کے ساتھ اپنے آپ کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami