Share this link via
Personality Websites!
قُطْبُ الاِرْشَاد تھے۔([1])
اِس کے آثار بچپن شریف سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔آپ بچپن ہی سے خود بھی باعمل تھے اور دوسروں کو بھی باعمل بننے کی تبلیغ فرمایا کرتے تھے۔آپ کے بچپن شریف کا واقعہ مشہور ہے۔ایک مرتبہ اُستاد صاحِب مَدرَسے میں بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے، اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ بھی اُنہی بچوں میں موجود سبق پڑھ رہے تھے، اِتنے میں ایک بچہ کلاس میں داخِل ہوا، اُس نے اُستاد صاحِب کو سلام کیا، اُستاد صاحِب کی زَبان سے نکلا: جیتے رہو۔یہ سُن کر اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ چونکے، اُستاد صاحب کی خدمت میں عَرْض کیا: اُستادِ مُحترَم! سلام کے جواب میں تو وَعَلَیْکُمُ السَّلَامکہنا چاہیے۔
اُستاد صاحِب بھی نیک آدمی تھے، اُنہوں نے نَنّھے مُبَلِّغ کی زَبان سے اِصْلاحی جُملہ سُنا تو ناراض نہیں ہوئے بلکہ خُوش ہو کر اپنے ہونہار شاگردکو ڈھیروں دُعاؤں سے نوازا۔ ([2])
وہ جس کے زُہْد و تقویٰ کو سراہا شان والوں نے کہا یُوں پیشواؤں نے ہمارا پیشوا تم ہو
حقیقت ہے ملے ہیں دین و ایماں آپ کے گھر سے شریعت کے مُحافِظ اے شہِ احمد رضا تم ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت مالک بن دینا رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا طَلَبَ الْعِلْمَ لِلْعَمَلِ كَسَرَهٗ عِلْمُهٗ
ترجمہ: بے شک جب بندہ علم کو عمل کرنے کی نیّت سے حاصل کرتا ہے تو اس کا علم اُسے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami