Share this link via
Personality Websites!
سیدھے ہاتھ سے ہی کچھ دیا اور لیا کرتے تھے۔ مَلِکُ العُلماء،خلیفہ وشاگردِ اعلیٰ حضرت مفتی سیِّد محمد ظفَرُ الدین بِہاری رحمۃُ اللہ علیہ اپنی کتاب حیاتِ اعلیٰ حضرت میں لکھتے ہیں: اگر کسی کو کوئی چیز دینی ہوتی اور اُس نے اُلٹا ہاتھ لینے کو بڑھایاتواعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ فوراً اپنا ہاتھ روک لیتے اور فرماتے، سیدھے ہاتھ میں لیجیے، اُلٹے ہاتھ سے شیطان لیتا ہے۔([1])
سنّتِ نبوی کا تھا اِظْہَار یہ اِک اِک عمل وہ نِفاذِ شرع ِ اسلامی میں کرتے تھے پہل
اَلغَرض وہ تھے صفاتِ عالیہ سے مُتَّصِف اُن کا ہر سیرت نگار اِس کا رہا ہے مُعْتَرِف
اصل میں وہ تھے تَصَوُّف اور طریقت کے امیں پھر نہ کیوں ہو اُن کی ہستی قابلِِ صد آفریں
تھا نہ تھوڑا بھی تَضاد اقوال اور افعال میں سنتِ نبوی کی کرتے پیروی ہر حال میں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!اولیاء کا ایک گروہ ہے؛جسے قُطْبُ الاِرْشاد کہتے ہیں۔
قُطْب: وِلایت کا ایک درجہ ہے، وہ ولئ کامِل جو طریقت کے تمام مقامات کا جامِع ہو، اسے قُطْب کہا جاتا ہے، قُطْب اپنے زمانے کے تمام اَوْلیا میں انفرادی شان والا ہوتا ہے، اسے غَوْث بھی کہتے ہیں۔اِرْشَاد کا معنیٰ ہے: نیکی کی دَعوت دینا*بُرائی سے منع کرنا*لوگوں کے عقائد کی اِصْلاح کرنا* اَعْمَال کی اِصْلاح کرنا*مُعَاشَرے میں پائی جانے والی بُرائیوں کو سُدھارنا، یہ سب کچھ اِرْشَاد کے ضِمن میں آتا ہے۔ اب قُطْبُ الاِرْشَاد کا معنیٰ بنے گا: اپنے زمانے کے سب سے بڑے مُصلِح مِلَّت (یعنی اُمَّت کی اِصْلاح کرنے والے)، اپنے زمانے کے اَوْلیا کے سردار۔([2])جبکہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ اپنے دور کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami