Share this link via
Personality Websites!
مُباح کلام نیکیوں کو کھا جاتا ہے
حضرت ملاّ علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: اَلْکَلَامُ الْمُبَاحُ فِی الْمَسْجِدِ مَکْرُوْہٌ یَاکُلُ الْحَسَنَاتِیعنی مَسجِدمیں مُباح (یعنی جائز) بات کرنا مکروہ ہے اور نیکیو ں کو کھاجاتا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں مَسجِد کا اِحترام کرنا چاہیے*مسجد اللہ پاک کا گھر ہے*عبادت کی جگہ ہے*اللہ پاک کی یاد میں گم ہونے*دُنیا سے کٹ کر اپنے رَبّ کی طرف لَو لگانے کی جگہ ہے*ایسی مقدّس*ایسی پاک *اور انتہائی بلند رُتبہ جگہ آ کر بھی ہم گُنَاہ ہی کریں گے، بےادبیاں ہی کریں گے تو سُدھرنا کہاں جا کر ہے...؟ اس لیے مسجد کے اِحترام کی عادت بنائیے!
مسجد کے آداب و احترام کے بارے میں مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے امیر ِاہلسنّت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکَاتُہم الْعَالِیَہ کی ایک بڑی ہی پیاری کتاب فیضانِ نماز (فیضان سنت کی جلد:3 کا ایک باب)کے باب مسجد کے فضائل کا مطالعہ کیجیے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!اللہ پاک نے چاہا تو کافی علمِ دین سیکھنے کو ملے گا۔ آپ یہ کتاب مکتبۃُ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے حاصل کیجیے، یا دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww.dawat e islami.netسے فری ڈاؤن لوڈ کیجیے!خود بھی مطالعہ کیجیے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیجیے۔اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
سیدھے ہاتھ سے لین دَین کیا کرتے تھے
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت امام اَحمد رضاخان رحمۃُ اللہ علیہ کی عادتِ مبارَکہ تھی کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami