Share this link via
Personality Websites!
رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے بڑے اطمینان سے فرمایا: میرے ایک سُوال کا جواب دے دو! پِھر جو چاہے کر لینا۔ وہ بولے: بتائیے! کیا سُوال ہے؟ فرمایا: میں اس وقت ایک بڑی سوچ میں ہوں؛ایک بہت بڑی کشتی ہے جس میں طرح طرح کا تجارتی سامان ہے، مگر نہ کوئی اس کا نگہبان ہے، نہ چلانے والا ہے، اس کے باوُجُود وہ کشتی مسلسل سمندر میں سفر کرتی ہے، سمندر کی طوفانی موجوں کو چیرتی ہوئی گزر جاتی ہے، رُکنے کی جگہ پر رُکتی ہے اور چلنے کی جگہ پر چلنے لگتی ہے۔ اب وہ دَہریے جو آپ کو شہید کرنے کے لیے آئے تھے، جھنجھلا کر بولے: آپ کس سوچ میں پڑ گئے، بھلا کوئی عقلمند انسان ایسا سوچ سکتا ہے؟ اتنی بڑی کشتی، تجارتی سامان کے ساتھ، طوفانی سمندر میں بغیر چلانے والے کے کیسے چل سکتی ہے؟ امامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا: بس یہی تو میں کہتا ہوں۔ جب ایک چھوٹی سی کشتی بغیر چلانے والے کے نہیں چل سکتی تو یہ ساری دُنیا، زمین و آسمان،سورج، چاند ستارے، سب کچھ اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں، پابندی کے ساتھ وقت پر موسم بدلتے ہیں، وقت پر رات آتی ہے، وقت پر دِن چڑھ جاتا ہے تو اتنی بڑی کائنات بغیر خالِق و مالِک کے کیسے چل سکتی ہے؟ یہ بات سُن کر وہ جو شہید کرنے آئے تھے، سب کے سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔([1])
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے، وہی خدا ہے
پیارے اسلامی بھائیو! یقین مانیے! آپ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے جائیے! تفاسِیر کی روشنی میں اسے سمجھتے جائیے! ایسی واضِح واضِح آسان آسان دلیلیں ارشاد ہوئی ہیں کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami