Share this link via
Personality Websites!
میں ایک جیتا جاگتا انسان آپ کے سامنے موجُود ہوں، جب میں نہیں تھا، پیدا ہی نہیں ہوا تھا تو کیا ایسا ہوا کہ اُس وقت جب میں تھا ہی نہیں تو میں نے خُود ہی اپنے آپ کو تخلیق کر لیا...؟ نہیں! یہ تَو بالکل ہی پاگلوں والی بات ہے۔ جب میں تھا ہی نہیں تو خُود اپنے آپ کو بنا کیسے سکتا ہوں۔ پتا چلا؛ جو نہ ہو، وہ خُود اپنے آپ کو بنا نہیں سکتا۔ جب سائنس بھی مانتی ہے کہ یہ دُنیا پہلے نہیں تھی، بعد میں پیدا ہو گئی ہے تو سوچو! اگر ایک جیتا جاگتا، عقل و شعور رکھنے والا انسان بھی خُود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کر سکتا تو اس کائنات نے خُود اپنے آپ کو کیسے بنا لیا؟ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ کوئی تَو ہے، جس نے یہ کائنات تخلیق فرمائی ہے۔ جس نے یہ کائنات بنائی ہے، وہی خُدا ہے۔
تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا کیسی زمیں بنائی، کیا آسماں بنایا
پاؤں تلے بچھایا کیا خُوب فرشِ خاکی اور سر پہ لاجْوَرْدی اِک سائباں بنایا
خوش رنگ اور خوشبو گُل پُھول ہیں کھلائے اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا
ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی یہ کارخانہ تُو نے کب رائیگاں بنایا
امامِ اعظم، امام ابوحنیفہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت عقلمند تھے، جو لوگ اپنی بےوقوفی اور بےعقلی کے سبب خُدائے پاک کے وُجُود ہی کا اِنْکار کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ دُنیا خُود ہی بن گئی اور خُود بہ خُود ہی چلتی جا رہی ہے، امامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اپنے دلائل کے ذریعے ان کا جینا دُشوار کر دیا تھا، اس لیے یہ لوگ جنہیں دَہْریے کہا جاتا ہے، امامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی جان کے دُشمن بن گئے، ایک مرتبہ امامِ اعظم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ مسجد میں اکیلے ہی تھے، دَہریوں نے موقع دیکھا تو تلواریں لے کر آپ کو شہید کر دینے کے لیے آ گئے، امامِ اعظم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami