Share this link via
Personality Websites!
الْخٰلِقُوْنَؕ(۳۵) (پارہ:27، سورۂ طور:35)
کردئیے گئے ہیں یا وہ خود ہی (اپنے) خَالِق ہیں؟
قرآنِ کریم غور کی دعوت دے رہا ہے، اے لوگو! غور کرو! کیا تم بغیر کسی چیز کے خُود بخُود پیدا ہو گئے؟ یا تم نے خُود ہی اپنے آپ کو بنا لیا ہے؟
تھوڑا بات کو سمجھیے گا؛*ہم اپنی ذات پر غور کریں؛ کیا میری پیدائش کا کوئی سبب ہے کہ نہیں ہے؟ یقیناً میرے ماں باپ میری پیدائش کا سبب بنے ہیں* پِھر سُوال کیجیے! میرے ماں باپ خُود بخود پیدا ہو گئے تھے؟ یا اُن کی پیدائش کا کوئی سبب ہے؟ یقیناً میرے دادا، دادی، نانا، نانی میرے ماں باپ کی پیدائش کا سبب ہیں* یُوں اُوپَر سے اُوپَر جاتے جائیے! اس پُوری کائنات میں فرشتوں اور جنّات کے عِلاوہ صِرْف ایک انسان ہی عقل مند اور باشُعُور مخلوق ہے، جب ایسا عقل مند، باشُعُور انسان جو *چاند پر پہنچ جانے کا دعویٰ رکھتا ہے *جو کاریں بنا لیتا ہے *جو پانی سے بجلی بنا لیتا ہے *جو موبائِل، گھڑیاں، سپیس کرافٹ (Spacecraft) اور نہ جانے کیا کیا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اِنْسان بھی جب خُود بخود پیدا نہیں ہو سکتا تو بتائیے! یہ پہاڑ، یہ ہوائیں، یہ کہکشائیں، یہ زمین، یہ آسمان، یہ سب کچھ خُود بخود کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی چیز خُودبخود نہیں ہو سکتی تو یقیناً اس پُوری کائنات کو بنانے والا کوئی تَو ہے۔ جو ہے، وہی خُدا ہے۔
اللہ پاک نے مزید فرمایا:
اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ(۳۵) (پارہ:27، سورۂ طور:35)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: یا وہ خود ہی (اپنے) خَالِق ہیں؟
یہ ایک اَور زاویے سے سُوال ہے، فرمایا: کیا لوگوں نے خُود ہی اپنے آپ کو بنا لیا ہے؟ مثلاً ؛
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami