Share this link via
Personality Websites!
میں خُود فرماتا ہوں *آپ کے سراپا رحمت ہونے کو بیان کرنا ہو تو
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷) (پارہ:17، سورۂ انبیاء:107)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
میں فرماتا ہوں ۔ مگر اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اب چُونکہ میری شانِ اُلُوہیت اور میری تَوحِید بیان کرنی ہے، یہ آپ اپنی زبانِ پاک سے بیان فرما دیجیے! تَو فرمایا:
قُل (پارہ:30، سورۂ اخلاص:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تم فرماؤ:
کہنا کیا ہے؟ فرمایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴) (پارہ:30، سورۂ اخلاص:1-4)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اُس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور کوئی اُس کے برابر نہیں ۔
سُبْحٰنَ اللہ!کتنے پیارے انداز میں میرے رَبِّ کریم کی عظیم تَرِین شانیں بیان ہو گئی ہیں، آپ قرآنِ کریم کا مبارَک اُسْلُوب دیکھیے! علم کے میدان میں مسئلۂ تَوحِید کو انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے مگر قرآنِ کریم کی کیا شان ہے؛ انتہائی مشکل مسئلے کو بھی اتنا آسان کر کے بیان فرما دیا کہ کوئی بالکل اَنْ پڑھ بندہ بھی سُورۂ اِخْلاص کا صِرْف ترجمہ ہی پڑھ لے تو اللہ پاک کی توحید سمجھ آجائے گی۔ کتنے سادہ لفظوں میں شانِ تَوحِید بیان ہوئی، فرمایا: *وہ اللہ پاک ایک ہے، تنہا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں *وہ بےنیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں، ساری مَخْلوق سُننے کے لیے کانوں کی محتاج، دیکھنے کے لیےآنکھوں کی محتاج، پکڑنے کے لیےہاتھوں کی محتاج، چلنے کے لیےقدموں کی محتاج اور تَو اور خُدا کے سِوا جو کچھ بھی ہے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami