Share this link via
Personality Websites!
کے جواب میں اللہ پاک نے فرمایا:([1])
قُلْ (پارہ:30، سورۂ اخلاص:1)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تم فرماؤ:
سُبْحٰنَ اللہ!
قُلْ کہہ کے اپنی بات بھی لَبْ سے ترے سُنی اللہ کو ہے اتنی تِری گفتگو پسند([2])
آپ دیکھیے! سُوال ہے: اللہ پاک کون ہے؟ اِس کے جواب میں شان اللہ پاک کی بیان کرنی ہے مگر قربان جائیے! اللہ پاک نے فرمایا: اے محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! *آپ کی رسالت کا اِعْلان کرنا ہو تو میں خُود فرماتا ہوں*آپ کی شان و عظمت کو بیان کرنا ہو تو میں خُود فرماتا ہوں *آپ کے چہرۂ پُرنُور کا تذکرہ کرنا ہو تو
وَ الضُّحٰىۙ(۱) (پارہ:30، سورۂ ضحیٰ:1)
یعنی :چہرۂ مصطفےٰ کی قسم! ([3])
میں فرماتا ہوں*آپ کی مقدَّس آنکھوں کی شان بیان کرنی ہو تو
مَا زَاغَ الْبَصَرُ (پارہ:27، سورۂ نجم:17)
یعنی: وہ آنکھ جس نے جلوۂ نُورِ خُدا ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ([4])
میں فرماتا ہوں*آپ کے دِلِ پُرنُور کی بات کرنی ہو تو
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱) (پارہ:27، سورۂ نجم:11)
یعنی :جلوۂ نُورِ خُدا کی خُوب پہچان کرنے والا دِل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami