Share this link via
Personality Websites!
تھا، آخِر بولا: یہ جس ہستی کا کلام ہے، حق بنتا ہے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ یہ کہہ کر اُس مُشرِک نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔
اب ہم نے اسے اپنے ساتھ بحری جہاز میں سُوار کر لیا۔ راستے میں ہم نے اُسے قرآنِ کریم کی ایک سُورت بھی سکھا دِی۔ جب رات ہوئی تو ہم سب اپنے بستروں کی طرف بڑھ گئے، وہ نَو مُسْلِم بولا: اے قوم! وہ خُدا جس کی پہچان تم نے مجھے کروائی، کیا وہ سوتا بھی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ حَیّ و قَیُّوم ہے، اُسے نہ نیند آتی ہے، نہ اُونگھ آتی ہے۔ یہ سُن کر اُس نَو مُسْلِم نے کہا: یہ بےاَدبی ہےکہ بندہ اپنے مالِک کے سامنے سویا رہے۔ یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا، ساری رات کھڑا رَوتا رہا، رَوتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
عبد ُالواحِد بن زید فرماتے ہیں: جب ہم عِبَادان (نامی شہر) میں پہنچے تو ہم دوستوں نے مِل کر کچھ رقم جمع کی اور اس نیومُسْلِم(New Muslim) کو دی۔ رقم دیکھ کر وہ بولا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: ہم تمہاری مدد کر رہے ہیں۔ وہ بےنیازی سے بولا: سُبْحٰنَ اللہ! تم نے مجھے وہ راستہ دِکھایا، جو خُود بھی نہیں جانتے۔ بَھلا جب میں جزیرے پر تھا، غیرُ اللہ کی عِبَادت کرتا تھا، اللہ پاک نے اس وقت مجھے بُھوکا نہیں رکھا تو اب کیسے ضائع فرما دے گا؟ یہ کہہ کر وہ ہم سے جُدا ہو گیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!کیسی شان ہے، کاش! ہمیں بھی اس صاحِبِ اِیْمان جیسا کامِل اِیْمان مِل جائے، ہمیں بھی اللہ پاک پر واقعی صحیح معنوں میں تَوَکُّل نصیب ہو جائے۔
بہر حال پیارے اسلامی بھائیو! ہم اَلحمدُ للہ! اللہ پاک پر اِیْمان تو رکھتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ عقیدۂ توحید کے عملی تقاضے بھی اپنایا کریں، مختصر طَور پر میں نے کَشْفُ الْمَحْجُوب شریف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami