Share this link via
Personality Websites!
غُلام نے کہا: جو آپ کھلا دیں گے، کھا لوں گا، پھر پوچھا: کوئی خواہش ہو تو بتاؤ! غُلام بولا: جو آپ کی خواہش ہے، وہی میری خواہش ہے۔ میں تو غُلام ہوں اور غُلام کو ان چیزیں سے تَعَلُّق نہیں ہوا کرتا۔اس پر حضرت ابراہیم بن ادھم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سوچنے لگے: کاش! میں بھی اللہ پاک کا ایسا ہی اطاعت گزار ہوتا تو کتنا بہتر تھا۔([1])
اے عاشقانِ رسول ! اِسے کہتے ہیں، بندہ (یعنی غُلام) ہونا، بندہ ہوتا ہی وہ ہے جس کی اپنی کوئی خواہش نہ ہو، جس کی اپنی کوئی مرضی نہ ہو، بندہ ہمیشہ اپنے مالِک کی مرضِی پر چلتا ہے، اس لیے ہمیں بھی چاہیےکہ غربت آئے، پریشانی آئے، مصیبت آئے، کچھ بھی ہو، ہم اللہ پاک کے فیصلے پر مُطْمَئِن رہیں، کبھی بھی شکوہ شکایت زبان پر نہ لائیں۔
راضی بہ رِضا رہنے والوں کے لیے خوشخبری
اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: طُوۡبٰی لِمَنۡ ھُدِیَ لِلۡاِسۡلَامِ وَکَانَ رِزۡقُہٗ کَفَافًا وَرَضِیَ بِہٖیعنی خوشخبری ہے اس کے لیے جس کو اسلام کی ہدایت دی گئی، قدرِ کفایت رِزْق دیا گیا اور وہ اس پر راضی ہے۔([2])
تاج وتخت وحکومت مت دے کثرتِ مال و دولت مت دے
اپنی رِضا کا دیدے مُژدہ یااللہ! مِری جھولی بھر دے([3])
پیارے اسلامی بھائیو! عقیدۂ توحید کا ایک عملی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ پاک پر تَوَکّل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami