Share this link via
Personality Websites!
سے دُور رَہتے ہوئے کیسی سادہ اور زَاہِدانہ زندگی گزارا کرتے تھے۔
سلام اُس پر کہ جس نے بے کسوں کی دَستگیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اُس پر کہ سادہ بَورِیا جس کا بچھونا تھا
اللہ پاک ہمیں نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنے اور قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم۔
تیسرا تقاضا: راضِی بہ رِضا رہنا
پیارے اسلامی بھائیو! حُضُور داتا گنج بخش علی ہجویری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے ارشادات کا خُلاصہ ہے، فرماتے ہیں: (عملی) توحِید یہ ہے کہ بندہ اللہ پاک کی مرضِی کے سامنے ایسا ہو جائے، جیسے مردَہ غسّال کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔([1])یعنی بندہ ایسی بندگی اپنا لے کہ اللہ پاک کے کسی فیصلے پر ذَرَّہ برابر بھی کھٹکا دِل میں نہ لائے۔
پہلے دَور میں غُلام باقاعدہ بازار میں فروخت ہوتے تھے، ایک مرتبہ حضرت ابراہیم بن اَدْھَم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو ایک غُلام کی ضرورت پیش آئی، آپ بازار تشریف لے گئے، ایک غُلام خریدا اور گھر لے آئے، آپ نے اُس غلام سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ غُلام نے کہا: جس نام سے آپ پُکاریں، وہی میرا نام ہو گا، آپ نے پوچھا: تم کیا کھانے کے عادِی ہو؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami