Share this link via
Personality Websites!
وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ- (پارہ:26، سورۂ احقاف:20)
چیزیں اپنی دُنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اُٹھا چکے۔
یہ ہے تو غیر مسلموں کا وَصْف مگر افسوس! بہت سارے مسلمانوں نے بھی اِس بُرے عیب کو کافی حَدْ تک اَپنا لیا ہے، ہمارے سامنے صِرْف دُنیا ہی دُنیا ہوتی ہے، آخرت کا فائدہ کم ہی لوگ دیکھتے ہیں *ہماری زندگی کا مقصد:اُونچی کوٹھیاں بنانا، کاریں خریدنا، امیر ہونا، بزنس بڑھانا *ہماری دِن رات کی روٹین: کمانا، کھانا، پہننا، سونا *ہماری خواہشات: شہرت، عزّت، وَاہ وَا، سب سے نمایاں دِکھنا، سب سے نمایاں رہنا *افسوس کی بات یہ ہے کہ جو خالصتاً دِینی چیزیں ہیں، یعنی وہ کام جن سے ہم آخرت کما سکتے ہیں، آج کل لوگ وہ اُخْروِی کام بھی دُنیاوِی لذّت کے تحت کرنے لگے ہیں، مثال کے طور پر *عِلْم سیکھنا اچھا عمل ہے مگر ہمارے ہاں عِلْم صِرْف و صِرْف نوکری پانے، پیسا کمانے کے لیے سیکھا جانے لگا ہے، اسی لیے تو لوگ ڈگریاں اکٹھی کرتے ہیں، عِلْمِ دین سیکھنے کی طرف دھیان نہیں دیتے *اسی طرح عِبَادت تو آخرت کے لیے ہی کی جاتی ہے نا، مگر ہمارے ہاں لوگ عبادت کی بھی نمائش کر ڈالتے ہیں تاکہ دُنیا میں عزّت ملے، شہرت ہو، لوگوں کو پتا چلے کہ ما بدولت *بہت سخی ہیں *بڑے نمازی پرہیز گار ہیں۔
غرض؛ ہماری نگاہوں کی ابتدا و اِنتہا صِرْف دُنیا بنتی چلی جا رہی ہے، ہم نے کچھ آخرت کے لیے بھی بچا کر رکھنا ہے، اِس جانِب تَوَجُّہ ہی نہیں جاتی ، کاش! ہم دُنیا کی بجائے آخرت کے طلب گار بن جاتے۔
غیر مسلموں کے لیے دُنیا اور ہمارے لیے آخرت
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ بارگاہِ رسالت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami