Share this link via
Personality Websites!
خواہش کو اپنا خدا بنالیا ۔
یہاں سے مَعْلُوم ہوا؛ نفسانی خواہشات کا پیروکار بن جانا گمراہی کا سبب ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: اَبْغَضُ اِلٰہٍ عُبِدَ فِی الْاَرْضِ الْھَوٰی یعنی زمین پر پوجا جانے والاسب سے بُرا مَعْبُود خواہِشِ نفس ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بہت سمجھنے کی بات ہے، ہمارے دِل میں جو خواہشات اُٹھتی ہیں؛ *گُنَاہوں بھری خواہشات *غفلت سے بھرپُور خواہشات *فضولیات پر مبنی خواہشات *محض عارضِی لذّت پر مبنی خواہشات...!! ہم جب ان خواہشات کے پیروکار بن جاتے ہیں اور ان خواہشات کے سبب اللہ پاک کے اَحْکام کو پَسِ پُشت ڈال دیتے ہیں، مثلاً لوگ *کمانے کی فِکْر میں نمازیں قضا کر ڈالتے ہیں *مال کی حِرْص میں جھوٹ بولتے ہیں، ڈنڈی مارتے ہیں، دھوکے دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے ان نفسانی خواہشات کو خُدا بنا لینا قرار دیا ہے کہ بندہ اپنے نفسِ اَمَّارہ کی اطاعت ایسے کر رہا ہے، جیسے اللہ پاک کی اطاعت کی جاتی ہے۔ یہ اگرچہ شِرْک نہیں ہے یعنی آدمی اپنی نفسانی خواہشات کا شِکار ہو کر دائرۂ اِسْلام سے نکل نہیں جائے گا، البتہ! عقیدۂ توحید کا عملی تقاضا ہے کہ ہم اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگ جائیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! افسوس کی بات ہے کہ آج ہم دُنیا پرستی میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گئے ہیں، اللہ پاک نے غیر مسلموں کاوَصْف بیان کیا:
اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تم اپنے حصے کی پاک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami