Share this link via
Personality Websites!
ہیں ، اِس میں کیا راز ہے ؟ اُس شخص نے روتے ہوئے جواب دیا : میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اعمال اللہ پاک کی بارگاہ کے لائق نہیں تو میں قیامت میں اس لیے اندھا اٹھایا جانا پسند کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔ وہ سب لوگ اِس عارفانہ جواب کو سن کر بے حد متأثر ہوئے پوچھا : اے شیخ ! آپ کون ہیں ؟انہوں نے جواب دیا :میں عبدالقادر جیلانی ہوں ۔([1])
تِرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھرتھر رہوں کانپتا یاالٰہی!
بنا دے مجھے نیک نیکوں کا صدقہ گناہوں سے ہر دَم بچا یاالٰہی!
عبادت میں گزرے مِری زندگانی کرم ہو کرم یاخُدا یاالٰہی!([2])
اے عاشقانِ رسول! اللہ پاک ہمیں حسابِ آخرت کا خوف نصیب فرمائے! یقیناً ہم حساب دینے کے قابل نہیں ہیں، آہ! اگر ہم سے حِسَاب لے لیا گیا تو سوائے رُسوائی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لیے دُعا کرتے رہنا چاہیےکہ اللہ پاک ہمیں بِلا حِسَاب اپنی رحمت سے، اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شفاعت سے جنّت میں داخلہ نصیب فرما دے۔
تُو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا([3])
دوسرا تقاضا:نفسانی خواہشات سے رُکنا
پیارے اسلامی بھائیو! عقیدۂ تَوحِید کا دوسرا عملی تقاضا ہے: نفسانی خواہشات چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ پاک کے اَحْکام کے تابِع کر دینا۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ(پارہ:25، سورۂ جاثیہ:23)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami