Share this link via
Personality Websites!
مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ(۴۰) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ(۴۱) (پارہ:30، سورۂ عبس:38-41)
روشن ہوں گے۔ ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے۔ اور بہت سے چہروں پر اُس دن گرد پڑی ہوگی۔ ان پر سیاہی چڑھ رہی ہوگی ۔
اللہ اکبر! جب قیامت کا دِن ہو گا، ہم سب اللہ پاک کے حُضُور حاضِر ہوں گے، اُس دِن ہر ایک الگ ہی پریشانی میں مُبتَلا ہو گا*کچھ خوش نصیب ہوں گے، اُن کے چہرے چمک دمک رہے ہوں گے، اپنے نیک اَعْمال کی جزا دیکھ کر اُن کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہو گی * اور آہ! کچھ گنہگار ہوں گے، وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے ہوں گے، چہرے پر ہوائیاں اُڑی ہوں گی، اور ان کے چہروں سے ذِلّت ٹپک رہی ہو گی۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا مَنْظَر ہے۔ ہم سب اَلحمدُ للہ! تَوحِید پر پکّا اِیْمان رکھنے والے ہیں، اِس کا عملی تقاضا ہے کہ ہم اللہ پاک کے حُضُور حاضِری سے حَیا کِیَا کریں اور سوچیں کہ کونسا مُنہ لے کر اپنے رَب کے حُضُور حاضِری دُوں گا...؟
بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کا خوف
حضرت شیخ سَعْدی شِیْرازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مسجدِ حرام شریف میں کچھ لوگ کعبہ شریف کے قریب عبادت میں مَصْرُوْف تھے۔ اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوار ِ کعبہ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہا ہے اور اُس کے لبوں پر یہ دعا جاری ہے: اے اللہ ! اگر میرے اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تَو کَل قیامت میں مجھے اندھا اٹھانا ۔
یہ عجیب وغریب دعا سن کر لوگوں کو بڑی حیرانی ہوئی ، انہوں نے دعا مانگنے والے سے پوچھا : اے شیخ ! ہم تو قیامت میں عافیت کے طلب گار ہیں اور آپ اندھا اٹھائے جانے کی دعا فرما رہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami