Share this link via
Personality Websites!
داتا گنج بخش علی ہجویری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کا عرسِ پاک ہوتا ہے، داتا حُضُور رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت بڑے ولی بھی تھے اور بہت بڑے عالِم بھی تھے، آپ کی کتاب ہے: کَشْفُ الْمَحْجُوب۔ اِس میں آپ نے بہت بڑا عِلْمی خزانہ بیان فرمایا ہے۔ کَشْفُ الْمَحْجُوب ہی کی روشنی میں عقیدۂ تَوحِید کے کچھ عملی تقاضے سنیے!
حُضُور داتا گنج بخش علی ہجویری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے عقیدۂ تَوحِید کی بات شروع کی تو بالکل ابتدا ہی میں آپ نے ایک حدیثِ پاک لکھی، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: تم سے پہلی قوموں میں ایک شخص تھا، وہ عقیدۂ تَوحِید پر پکّا اِیْمان تو رکھتا تھا مگر اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، جب اُس کا آخری وقت آیا تو اُس نے اپنے اَہْلِ خانہ سے کہا: جب میں مَر جاؤں تو مجھے جَلا دینا، پِھر میری راکھ لے کر آدھی راکھ آندھی میں اُڑا دینا اور آدھی دَرْیا میں بہا دینا۔ چنانچہ جب وہ اِیْمان والا مسلمان وفات پا گیا تو اَہْلِ خانہ نے اُس کی وصیت پر عَمَل کیا، جب اُس کی راکھ ہوا میں اُڑا دی گئی تو اللہ پاک نے ہَوا کو حکم دیا: اُس کی راکھ حاضِر کرو! جو راکھ دَرْیا میں بہائی گئی تھی، دَرْیا کو اللہ پاک نے حکم دیا: راکھ حاضِر کرو! چنانچہ اُس کی مکمل خاک سے دوبارہ اُس کامجسمہ تیار ہوا، اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر کیا گیا، رَبِّ کریم نے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ شخص عرض گزار ہوا: اے اللہ پاک! (میں گنہگار تھا، کبھی نیکی نہ کی تھی) اب تیرے حُضُور حاضِری سے حیا آتی تھی، لہٰذا میں نے اپنی راکھ ہوا میں اُڑا دینے کی وصیت کی۔ بَس اس کا یُوں اللہ پاک کے حُضُور حاضِری سے حیا کرنا ہی اس کے کام آ گیا اور اللہ پاک نے اس کی بخشش و مغفرت فرما دی۔ ([1])
[1]...بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ:يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا...الخ، صفحہ:1808، حدیث:7508 مفہوماً، کشف المحجوب، کشف الحجاب الثانی فی التوحید، صفحہ:331۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami