Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! عقیدۂ تَوحِید کے یہ چند ایک دلائل میں نے آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ اِس پر اور بہت سارے دلائل موجُود ہیں، خُود ہماری اپنی ذات اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ پاک کا وُجُود ہے۔ خیر! ابھی میں آپ کے سامنے عقیدۂ تَوْحِید کے کچھ عملی تقاضے رکھنا چاہ رہا ہوں۔ شاعِرِ مشرق نے کہا تھا:
خُودِی کا سِرِّ نِہَاں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ([1])
یعنی انسان کی چُھپی ہوئی صلاحیتوں کو باہَر نکال کر اسے ترقی کی معراج تک پہنچانے والی چیز لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ہے۔
یُوں کہیے کہ عقیدۂ تَوحِید صِرْف ایک عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک پُورا نصاب ہے، یہ ایک پُوشیدہ طاقت ہے* جو انسان کو اِنْسانیّت کی حُدُود سکھاتی ہے* یہ عقیدہ اِنْسان کو اِنْسان بننا سکھاتا ہے* یہ عقیدہ اِنْسان کو ترقی اور کامیابی کی اُن اعلیٰ تَرِین بلندیوں تک لے جاتا ہے کہ اس عقیدے کے بغیر ان بلندیوں کا تَصَوُّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ کیسے ہو گا؟ اَلحمدُ للہ! اللہ پاک کا فضل ہے کہ ہم بچپن ہی سے پیدائشی طَور پر مُوَحِّد (یعنی اللہ پاک کو ایک ماننے والے) ہیں۔ لیکن یاد رکھیے! ایک تَوحِید عملیبھی ہوتی ہے، یعنی عقیدۂ تَوحِید اپنا تَو لیا، مسلمان بھی ہو گئے، اب اس عقیدے کو اپنی عملی زندگی میں نافِذْ بھی کرنا ہے۔ یہ ہم کیسے کر پائیں گے، اس کے کچھ طریقے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں:
داتا حُضُور اور کَشْفُ الْمَحْجُوب
20 صَفَر شریف کو برِّ صغیر پاک و ہند کی مشہور و معروف اور عظیم عِلمی و روحانی شخصیت حُضُور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami