Share this link via
Personality Websites!
کر کے توبہ میں پھر گناہوں میں ہو ہی جاتا ہوں مُبتَلا یاربّ!
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ- (پارہ:22،سورۂ فاطر:6)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو!
یعنی اے لوگو! اللہ پاک کی فرمانبرداری کرتے ہوئے شیطان سے دشمنی کرو! اور اللہ پاک کی نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی پیروی نہ کرو! ہر حال میں اِسے ہمیشہ ہی دُشمن جانتے رہو! ([1])
ایک مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے:
اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّؕ-بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا(۵۰) (پارہ:15، سورۂ کہف:50)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو (اے لوگو!) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سِوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کے لیے کیا ہی برا بدلہ ہے۔
یعنی اے لوگو! کیا تم شیطان اور اس کی اَوْلاد کو میرے سِوا دوست بناتے ہو! یعنی میری بندگی چھوڑ کر اس کے پیچھے چلتے ہو...!!حالانکہ سچ یہ ہے کہ شیطان بھی اور اس کی اَوْلاد بھی تمہارے دُشمن ہیں۔ پس شیطان، اس کی اَوْلاد اور جو کوئی ان کے پیچھے چلے، سب ظالِم ہیں اور ظالموں کے لیے بہت ہی بُرا بدلہ ہے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami