Share this link via
Personality Websites!
دے دیتا ہے، بَس اسی سے مایُوس ہو کر داڑھی منڈا کر گُنَاہ کی طرف بڑھ جاتے ہیں *بعض چھوٹی چھوٹی باتوں سے مُتَنَفّر ہو جاتے ہیں، مثلاً *کسی ایک داڑھی والے کو جھوٹ وغیرہ بولتے دیکھ لیا، بَس جی مَوْلوِیَوں سے اللہ بچا کر ہی رکھے۔ بندہ پوچھے: بھائی! اگر ایک داڑھی والے نے جھوٹ بول دیا تو کیا سارے ہی ایسے ہو گئے؟ نہیں ہوئے۔ تَو آپ اُس ایک کی غلطی کے سبب دِین سے پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو؟ *بعض دِینی اجتماعات میں آجاتے ہیں مگر نازُک مزاجی ایسی ہوتی ہے کہ کسی کا دھکا لگ گیا، وُضُو خانے پر پانی ختم ہو گیا، واش رُومز میں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑ گیا، یُوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مُتَنَفّر ہو کر دوبارہ نیکیوں کی طرف آنا چھوڑ دیتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! ذرا غور فرمائیے! شیطان کتنا خبیث ہے، اِس بدبخت کو مَعْلُوم تھا کہ انبیائے کرام علیہم السَّلام پر اس کا کچھ بھی زَور نہیں چل سکتا، اِس کے باوُجُود حضرت ابراہیم علیہ السَّلام حضرت اسماعیل علیہ السَّلام کی قربانی کے لیے جب مِنیٰ روانہ ہوئے تو یہ بدبخت وَسْوَسَہ ڈالنے کے لیے آیا، آپ علیہ السَّلام نے اسے کنکر مارے، یہ زمین کے اندر دَھنس گیا، پِھر آیا، پھر کنکر کھائے، پِھر آیا، پِھر کنکر کھائے اور زمین کے اندر تک دھنس گیا۔([1])
آپ دیکھیے! کتنی ذِلّت اُٹھا رہا ہے، پِھر بھی باز نہیں آ رہا۔ دوسری طرف ہم ہیں، ذرا سی بات پر نیکی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے! کامیابی پانے کے لیے دُشمن سے 4 قدم آگے رہنا پڑتا ہے، شیطان خبیث جتنا ڈھیٹ اور ضِدِّی ہے، ہمیں نیکیوں پر اس سے 4 گُنَا زِیادہ استقامت اِخْتیار کرنی چاہیے، تبھی ہم اِس خبیث سے بچ پائیں گے۔
نفس و شیطان ہوگئے غالِب ان کے چُنگل سے تُو چُھڑا یاربّ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami