Share this link via
Personality Websites!
آپ اس بدبخت کی ڈھٹائی پر ذرا غور فرمائیے! یہ اتنا خبیث دُشمن ہے، اسے جتنا بھی ذلیل کر لیا جائے، پِھر بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا، لگا رہتا ہے، وَسوسے دِلاتا رہتا ہے، کوششیں کرتا رہتا ہے، ایک وَسوسے کو جھٹک دَو تو دوسرا ڈالے گا، دوسرے کو جھٹک دَو تو تیسرا ڈالے گا، اسے ذلیل کرو! اَعُوْذُ بِاللہ پڑھ کر جُھلساؤ! لَاحَوْل شریف پڑھ کر دُور بھگاؤ! مگر یہ اتنا ڈھیٹ ہے کہ پیچھے ہٹتا ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کتابوں میں لکھا ہے: جب آدمی کو قبر میں اُتارا جاتا ہے تو شیطان بھی قبر میں مُردَے کے ساتھ اُتر جاتا ہے، وہاں بھی مُنکَر نَکِیْر کے سُوالوں کے جواب میں بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ایک طرف ہمارے اِس خبیث تَرِین دُشمن کی ایسی ڈھٹائی ہے، دوسری طرف ہم اپنا حال دیکھ لیں؛ *مُعَاشرے میں کئی ایسے لوگ مِل جائیں گے جو کہتے ہیں: میں ایک بار مسجد گیا تھا، جُوتَا گم ہو گیا، بَس اِس کے بعد گیا ہی نہیں۔
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ! صِرْف ایک بار حادثاتی طَور پر نقصان ہو گیا تو مسجد جانا ہی چھوڑ گئے، آپ ایسوں سے پُوچھئے! بھائی! بازار میں کتنی مرتبہ نقصان اُٹھایا ہے؟ شاید سینکڑوں بار اُٹھایا ہو گا * کچھ خریدا تو نقصان ہو گیا* کبھی بھولے سے رقم زیادہ دے بیٹھے، بعد میں واپس نہ ملی* کبھی دُکاندار نے ناپ تول میں کمی کر لی* کبھی دھوکے سے نقلی نوٹ لے آئے، ایسے کتنے نقصانات اُٹھا لیتے ہیں، بھلا کیا بازار جانا بھی چھوڑ دیتے ہیں؟ نہیں چھوڑتے تو مسجد جانا کیوں چھوڑ دیا؟ *ایسے بھی ہزاروں ہوں گے، جو داڑھی رکھ لیتے ہیں مگر کوئی ایک آدھ بندہ اپنی نادانی سے طعنہ
[1]...نوادر الاصول، الاصل السابع والسبعون والمائتان فی الحکمۃ فی فتانی القبر، جلد:2، صفحہ:387 ماخوذاً۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami