Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے بَرصِیْصا کا عبرتناک واقعہ سُنا، اس واقعہ میں *شراب کی بُرائی کا بھی سبق ہے کہ بَرصِیْصا نے شراب کو ہلکا گُنَاہ سمجھا مگر اس کی خباثت سے قتل اور بدکاری میں بھی مُبتَلا ہو گیا، پتا چلا؛ شراب کوئی چھوٹا گُنَاہ نہیں ہے، بلکہ حدیثِ پاک کے مطابق شراب اُمُّ الْخَبَائِث (یعنی گُنَاہوں کی جَڑ) ہے۔([1]) *یونہی اِس واقعہ میں ہمارے لیے اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کا بھی دَرْس ہے، آہ! کتنی عبرت کی بات ہے کہ 200 سال گُنَاہ کیے بغیر، صِرْف و صِرْف عبادت میں مَصْرُوْف رہنے والا شخص آخر کفر میں پڑا اَور غیر مسلم ہو کر دُنیا سے چلا گیا۔سوچئے! جب اتنے بڑے عبادت گزار کا اَنْجام ایسا ہوا تو ہم اپنے خاتمے سے بےفِکْر کیسے ہو سکتے ہیں، بَس ہمیں ہر وقت فِکْر مند رہنا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں اچھا خاتمہ نصیب فرمائے، کاش! دُنیا سے جاتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنا نصیب ہو جائے۔
خدایا بُرے خاتمے سے بچانا پڑھوں کلمہ جب نکلے دَم یااِلٰہی!([2])
پیارے اسلامی بھائیو! بَرصِیْصا کے واقعہ پر مزید غور کیجیے ! شیطان بدبخت کتنا خبیث ہے، یہ پہلے دوست بن کر آیا، بَرصِیْصا نے اِسے دُھتْکار دیا۔ یہ ذِلّت اُٹھانے کے باوُجُود بھی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ پہلے سے زیادہ ڈَٹ گیا، بَرصِیْصا کے عبادت خانے کے سامنے 3 دِن، 3 راتیں بغیر سوئے، بغیر تھکے، بغیر کچھ کھائے مسلسل عبادت کرتا رہا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami