Share this link via
Personality Websites!
شیطان کی یہ باتیں سُن کر بَر صِیْصا بہک گیا اور بولا: اچھا بتاؤ کونسا گُنَاہ کروں؟ *شیطان نے کہا:بدکاری کر لو! بَر صِیْصا نے انکار کیا*شیطان بولا: کسی کو قتل کر دو! بَرصِیْصا اِس پر بھی رَاضِی نہ ہوا* شیطان بولا: چلو پھر شراب پِی لو! اس پر بَر صِیْصا رَاضِی ہو گیا۔ اُس نے شراب خریدی، اُسے پی گیا۔ اب اُسے نشہ چڑھا، نشے کی حالت میں اُس نے بدکاری بھی کر لی اور قتلِ ناحق کا گُنَاہ بھی کر بیٹھا۔ جب اُس نے ایسے سنگین جرم کیے تو اُسے گرفتار کر لیا گیا، پھانسی کی سزا سُنا دی گئی، جب اُسے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا، تب شیطان اُس کے پاس پہنچا اور کہا: میں تمہیں چُھڑا سکتا ہوں، بس میری ایک بات مانو! اللہ پاک کا انکار کر کے مجھے سجدہ کر لو! آہ! 200 سال گُنَاہوں سے بچ کر عبادت میں گزارنے والا بَر صِیْصا شیطان کی چال میں پھنس گیا اور اُس نے شیطان کو سجدہ کر دیا، جیسے ہی اُس نے یہ کفر کیا، اُسی وقت اُسے موت آ گئی اور یہ بدبخت ایمان سے پِھر کر، مرتَد ہو کر دُنیا سے چلا گیا...!!([1])
اے عاشقانِ رسول! ڈرنے کا مقام ہے، آہ! خوف کی بات ہے، جب 200 سال عبادت میں گزارنے، ایک بھی گُنَاہ نہ کرنے والے کا ایسا بھیانک انجام ہوا تو ہم جو گنہگار ہیں،ہم سے دِن رات نہ جانے کیسے کیسے گُنَاہ ہوتے ہیں، ہم اپنے انجام سے بےفِکْر کیسے رہ سکتے ہیں...؟
مجھے ایسے عمل کی دے توفیق کہ ہو راضی تری رضا یاربّ!
جس نے اپنے لیے برائی کی ہے یہ نادان وہ بُرا یاربّ!
تو حسنؔ کو اُٹھا حسن کر کے ہو مع الخیر خاتمہ یاربّ!([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami