Share this link via
Personality Websites!
غلط ہے۔ یہ بات ذِہن میں بٹھائیے! ہمارے ہاں بھی شیطان لوگوں کو یہ وَسْوَسے دِلاتا ہے کہ ابھی گُنَاہ کر لَو بعد میں نیکیاں شروع کر لینا، کتنے ایسے ہیں جو کہتے ہیں: ہم کل سے نماز شروع کر لیں گے۔ یعنی آج نماز قضا کر لُوں، گُنَاہ کما لُوں، اِس کے نتیجے میں کل مجھے نماز کی توفیق مل جائے گی، حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ تَو یہ سمجھنے کی بات ہے، نیکی کا نتیجہ بھی نیکی نکلتا ہے اور گُنَاہ کا اَنْجام نیکی نہیں ہوتا، ہلاکت ہوتا ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ (پارہ:7، سورۂ انعام:6)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پھر(ہم نے)ان کے گناہوں کی وجہ سے اُنہیں ہلاک کردیا۔
یعنی پہلے جتنی قومیں ہلاک ہوئیں، اُن کو ہلاکت تک لے جانے والی چیز گُنَاہ ہی تھے۔پتا چلا؛ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی گُنَاہ کرے گا تو نتیجے میں اُسے عبادت کی توفیق مِل جائے گی بلکہ گُنَاہ کا اَنْجام ہلاکت ہوتا ہے۔ بڑی خوبصُورت بات کسی نے کہی تھی: گُنَاہ کی مثال ایسے ہے جیسے آدمی پہاڑ سے نیچے اُتر رہا ہو، یعنی پہاڑ سے نیچے اُترتے ہوئے ایک قدم اُٹھائیں تو دوسرا خُود بخود اُٹھتا چلا جاتا ہے، یونہی بندہ ایک گُنَاہ کر لے تو نفسِ اَمَّارہ اور شیطان دوسرے گُنَاہ کی طرف دَھکیل دیتے ہیں۔ یہی وہ شیطان کی سازش تھی جو اِس خبیث نے بَرصِیْصا کے ساتھ چلی، کہا: بَرصِیْصا! اچھا اور ماہِر عبادت گزار بننا چاہتے ہو تو گُنَاہ کر لَو...!!
بَر صِیْصا نے کہا: میں نے جس رَبِّ کریم کی اتنا عرصہ عبادت کی ہے، اب میں اس کی نافرمانی کیسے کر سکتا ہوں؟ شیطان نے کہا: آدمی جب گُنَاہ کرتا ہے تو مَعْذرَت کی طرف بڑھتا ہے (اللہ پاک سے ڈر کر اُس کی بخشش کا سُوالی بنتا ہے، لہٰذا یہ کیفیت پانے کے لیے تمہیں گُنَاہ کرنا ہی پڑے گا)۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami