Share this link via
Personality Websites!
نہیں ہے۔ یہ جواب سُن کر شیطان نے اُس کے عبادت خانے کے باہَر ہی ڈیرا لگا لیا۔
اب اس بدبخت کا بہکانے کا انداز دیکھیے! شیطان خبیث نے 3 دِن اُس عبادت خانے کے باہَر لگاتار عبادت کی، اِس دوران نہ سویا، نہ ہی کچھ کھایا پیا۔ چونکہ یہ انسانی شکل میں تھا اور بَر صِیْصا اُسے انسان ہی سمجھ رہا تھا، چنانچہ وہ اس کی عبادت دیکھ کر بہت متاثر ہوا، بَرصِیْصا نے پوچھا: مجھے 2 سو سال ہو گئے عبادت کرتے ہوئے لیکن ابھی تک یہ رُتبہ نہیں ملا، مجھے سونے کی بھی ضرورت پڑتی ہے، کھانے پینے کا بھی محتاج ہوں، (کاش! میں بھی تمہاری طرح عبادت کر سکتا...!! تجھے یہ مرتبہ کیسے ملا ہے؟)
شیطان بولا: اصل میں بات یہ ہے کہ مجھ سے ایک گُنَاہ ہو گیا تھا، جب مجھے وہ گُنَاہ یا د آتا ہے تو میری یہ کیفیت ہو جاتی ہے،پِھر مجھے نہ بھوک لگتی ہے، نہ پیاس لگتی ہے، نہ ہی نیند آتی ہے۔ تم نے چونکہ کبھی کوئی گُنَاہ کیا ہی نہیں ہے، اِس لیے تمہاری یہ کیفیت نہیں ہے، اگر تم مجھ جیسا بننا چاہتے ہو تو ایک گُنَاہ کر لو! پِھر تم پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہوا کرے گا اور تم بھی میری طرح بغیر کھائے،پئے مسلسل عبادت کر سکو گے۔
گُنَاہ کا اَنْجام بھی گُنَاہ ہوتا ہے
آپ ذرا شیطان خبیث کی چال پر غور کیجیے ! کتنا بدبخت اور چالاک ہے، اس نے پہلے بَرصِیْصا کو دوست بن کر بہکانا چاہا، جب بات نہ بنی تَو عبادت گزاری کا ڈَھونگ رچایا اور جال دیکھیے کیسے ڈال رہا ہے: بَرصِیْصا! بڑا اَور ماہِر تَرِین عبادت گزار بننا چاہتے ہو تو گُنَاہ کر لَو...!!
یہاں شیطان کی اِس باطِل تھیوری (Erroneous theory) کو سمجھیے! یہ کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ بَرصِیْصا! گُنَاہ کا اَنْجام خوف و خَشِیَّت اور نیکی کی توفیق نکلے گا۔ سِرے سے یہ تھیوری ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami