Share this link via
Personality Websites!
ماہِ صفر شریف میں بشمول داتا علی ہجویری رحمۃُ اللہ علیہ کئی بزرگوں کے اعراس ہوتے ہیں ، عاشقانِ اولیا بکثرت اولیائے کرام کے مزارات پر حاضر ہوتے اور فیض حاصِل کرتے ہیں، ہمیں بھی بزرگوں کے مزارات پر حاضِری دینی چاہیے، اِنْ شآءَ اللہ الْکَرِیْم! اس کی بہت برکتیں نصیب ہوں گی۔ آئیے! مزاراتِ اولیاء پر حاضِری کے آداب سنتے ہیں:
*فتاویٰ عالمگیری میں ہے: مستحب (یعنی شرعاً پسندیدہ) یہ ہے کہ مزار پر حاضِری سے پہلے اپنے مَکان ہی پر (غَیر مکروہ وَقْت میں) 2رکعت نفل پڑھے، ہر رکعت میں سُوْرَۃُالْفَاتِحَہ کے بعد 1بار اٰیَۃُ الْکُرْسِی اور3بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھے اور اس نماز کا ثواب صاحبِ مزار کو پہنچائے ، اس کی برکت سے اللہ پاک صاحِبِ مزار کی قَبْر میں نُور پیدا کرے گا اور اِس (ثَواب پہنچانے والے) شَخْص کو بَہُت زِیادہ ثَواب عَطا فرمائے گا۔([1])*مزارتِ اَوْلیاء پر حاضِری سے پہلے اچھی اچھی نیّتیں کر لیجیے!(مثلاً نیّت کیجیے! *پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم شہدائے اُحُد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے، اللہ پاک کی رضا کے لیے اس سُنّت کی ادائیگی کرتا ہوں*اَوْلیائے کرام کی قبر پر حاضِر ہونا، فرشتوں کا وَصْف ہے، ان کی نقل کرتا ہوں*صاحِبِ مزار کو ایصالِ ثواب کر کے ثواب کماؤں گا*صاحِبِ مزار کا فیض لینے کے لیے باادب حاضِری دوں گا وغیرہ) *جب بھی کسی مزار شریف پر حاضِر ی ہو تو قدموں کی طرف سے جائیے اور اورکم ازکم 4ہاتھ کے فاصِلہ پر چہرے کے سامنےکھڑے ہوں *درمِیانی آواز میں اس طرح سَلام عَرْض کیجیے: اَلسّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیِّدِیْ وَرَحمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ*صاحِبِ مزار کے اِیصالِ ثواب کے لیے دُرُودِ غَوْثیہ3بار، اَلْحَمْد شریف 1بار، اٰیَۃُ الْکُرْسِی 1بار،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami