Share this link via
Personality Websites!
سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
کتابوں میں لکھا ہے: بَرصِیْصا نامی ایک عبادت گزار تھا، اللہ پاک نے اُسے لمبی زندگی عطا فرمائی تھی اور یہ سب سے الگ تھلگ ہو کر اللہ پاک کی عبادت میں مَصْرُوْف رہتا تھا، اُس نے 2 سَو سال اِس طرح گزارے کہ ایک لمحے کے لیے بھی کوئی گُنَاہ نہ کیا۔
آپ ذرا اِسْتقامت کا اندازہ لگائیے! 2 سَو سال...!! ہمارے ہاں نارمل 60 سے 70 سال کی ایوریج (Average) ہے اور اِس مختصر زندگی میں دو، چار، دس، بارہ نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر شاید سینکڑوں گُنَاہ ہو جاتے ہوں گے۔ اس شخص کی استقامت دیکھیے! اس نے 2 سو سال یعنی پُوری 2 صدیاں بغیر گُنَاہ کیے ، عبادت ہی عبادت کرتے ہوئے گزار دِیْں۔
لیکن افسوس! اللہ پاک کی خفیہ تدبیر غالب آئی اور بَرصِیْصا اپنی ساری محنت ضائع کر کے جہنّم کا حقدار بن کر دُنیا سے رخصت ہو گیا۔
واقعہ یوں ہوا کہ ایک مرتبہ شیطان انسانی رُوپ میں بَرصِیْصا کے پاس پہنچا اور اُس کا عبادت خانہ جہاں رہ کر یہ عبادت کیا کرتا تھا، اُس کے باہَر کھڑے ہو کر شیطان نے اُسے آواز دی، بَر صِیْصا نے کہا: جو اللہ پاک کی عبادت کرنا چاہتا ہے، اُسے کسی دوست کی ضرورت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami