Share this link via
Personality Websites!
کی نِعْمَت چھن جانے کی تمنَّا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فُلاں کو یہ نعْمَت نہ ملے ۔([1])
مثلاً؛ *کسی کو مالی طور پر خوشحال دیکھ کر جلنا کُڑھنا اور تمنا کرنا کہ اس کا مال چھن جائے *کسی کو بڑے مرتبے پر فائز دیکھ کر دل جلانا اور یہ تمنا کرنا کہ اس سے کوئی ایسی غَلَطی سَرزَدہو کہ یہ مقام ومرتبہ اس سے چھن جائے اور یہ ذلیل ورُسوا ہوجائے *یہ خواہش رکھنا کہ فُلاں ہمیشہ تنگ دَسْت ہی رہے کبھی خوشحال نہ ہو *فُلاں کو کبھی کوئی عزت ومرتبہ نہ ملے وہ ہمیشہ ذِلّت کی چکی میں ہی پِستا رہے ، اِس مَذْمُوم خواہش کا نام حَسَد ہے ۔
حَسَد کی مذمت پر احادِیثِ کریمہ
*.حدیثِ پاک میں ہے: تم میں پچھلی اُمّتوں کی بیماری حَسَد اور بُغْض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔([2])
یعنی یہ بیماریاں دین و ایمان کو جڑ سے خَتم کردیتی ہے یوں کہ کبھی انسان بُغْض و حَسَد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے۔ شیطان بھی انہیں 2 بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔([3])
*.ایک روایت میں ہے: اَلْحَسَدُ یُفْسِدُ الْاِیْمَانَ کَمَا یُفْسِدُ الصَّبِرُ الْعَسَلَ یعنی حَسَد ایمان کو اس طرح بگاڑ دیتا ہے ، جیسے اَیْلوا (ایک کڑوا پودا) شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔([4])
*.رسولِ رحمت، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا : اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ یعنی حَسَد سے بچو کہ وہ نیکیوں کو اس طرح
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami