Share this link via
Personality Websites!
473042
9223
ایسے جال ہیں جن کے ذریعے یہ بدبخت انسان کو گمراہی کے کنارے تک لے جاتا ہے۔
آہ! افسوس! اب ہماری کثیر تعداد حِرْص و حَسَد کی لپیٹ میں آئی ہوئی مَحْسُوس ہوتی ہے *جی ہاں! حِرْص ہی کے سبب تو سُودِی لَیْن دین ہوتے ہیں *حِرْص ہی کے سبب مِلاوٹ اور ناپ تول میں کمی کا گُنَاہ سَر لیا جاتا ہے *حِرْص ہی کے سبب رِشْوَت کا چلن عام ہے *حِرْص کے سبب ہی قتل ہوتے ہیں *اِغْوا برائے تاوان ہوتے ہیں *بڑے بڑے اور چھوٹے پیمانوں پر جرائِم کا بازار گرم کیا جاتا ہے *سچّی بات ہے کہ جس کا ہاتھ پڑتا ہے، وہ حِرْص کی لپیٹ میں آ کر کچھ کا کچھ کر ہی جاتا ہے۔
میں سب کی بات نہیں کرتا، اَلحمدُ لِلّٰہ! مُعَاشرے میں ایک سے ایک نیک اور متقی افراد بھی موجود ہیں، انہی کے صدقے تو دُنیا چل رہی ہے۔ البتہ! ایک روپے سے لے کر کروڑوں تک کے گھپلے کرنے والے مُعَاشرے میں موجود ہیں، جس کا ہاتھ زیادہ اُونچا نہیں پڑتا، وہ جُھوٹ بول کر، ڈنڈی مار، ناپ تول میں کمی کر کے، اچھا بتا کر بُرا سَوْدا دے کر 10، 20 کا گھپلا کر جاتا ہے اور جس کا ہاتھ اُوپَر تک پڑتا ہے، ان کا حساب کتاب بھی پِھر کروڑوں میں ہوتا ہے۔ غرض؛ ہمارے مُعَاشرے میں بےایمانی، دو نمبری، جھوٹ اور فریب کتنا بڑھ چکا ہے، سب ہی جانتے ہیں اور یہ سب تباہ کاریاں حِرْص ہی کی تو ہیں۔ بَس دِل میں پیسا کمانے، امیر بننے اور بینک بیلنس بڑھانے کی لالچ ہوتی ہے، اسی لالچ کے سبب لوگ نہ جانے کیا سے کیا کرتے چلے جاتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے! اللہ پاک فرماتا ہے:
اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) (پارہ:30،سورۂ تکاثر:1-2)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: زیادہ مال جمع کرنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami