Share this link via
Personality Websites!
گناہوں نے مجھے ہائے! کہیں کا بھی نہیں چھوڑا
کرم ہو از طفیلِ سیِّدِ عَرب و عجم مولیٰ!
اندھیری قبر کا احساس ہے پھر بھی نہیں جاتیں
گناہوں کی خدایا عادتیں، فرما کرم مولیٰ!
میں رحمت، مغفرت،دوزخ سے آزادی کاسائل ہوں
مہِ رمضان کے صدقے میں فرمادے کرم مولیٰ!([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
روایت ہے: طُوفانِ نُوح کے وقت اللہ پاک کے نبی حضرت نُوح علیہ السَّلام جب کشتی میں سُوار ہوئے تو شیطان خبیث بھی چپکے سے کشتی پر چڑھ گیا۔ حضرت نُوح علیہ السَّلام نے اسے دیکھا تو فرمایا: اے اللہ پاک کے دُشمن! نکل جا یہاں سے۔ شیطان بولا: اے نُوح علیہ السَّلام ! 5چیزیں ایسی ہیں جن سے میں لوگوں کو گمراہی میں ڈالتا ہوں، 3آپ کو بتا دُوں گا (مجھے کشتی سے نہ اُتارئیے)۔ آپ علیہ السَّلام نے فرمایا: تُو 3رہنے دے، باقی کی جو 2ہیں، وہ بتا دے۔ شیطان بولا: وہ 2ایسی ہیں جن کی بدولت میں کبھی ناکام نہیں رہتا اور انہی کے ذریعے میں لوگوں کو تباہی کے کنارے تک پہنچا دیتا ہوں۔ شیطان لَعِیْن نے اپنے وہ 2بدتَرِین جال بتاتے ہوئے کہا: (1):ان میں سے ایک حِرص ہے (2):اور دوسرا حَسَد ہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول! نوٹ فرمائیے! حِرْص اور حَسَد شیطان کے 2جال ہیں اوریہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami