Share this link via
Personality Websites!
*مسجد میں دئیے ہوئے 10 رُوپے یاد رہتے ہیں، تجارت میں ڈنڈی مار کر کمائے ہوئے ہزار بُھول جاتے ہیں۔ یاد رکھیے! یہ سخت تَشْوِیْش کی بات ہے، اپنے گُنَاہوں کو بُھول جانا شیطان کا سخت تَرِین جال ہے۔ جب آدمی اپنے گُنَاہوں کو بُھول جاتا ہے تو شیطان اس پر غالِب آجاتا ہے۔ اس لیے اپنے گُنَاہوں کو ہمیشہ یاد رکھیے! یہ وہ ذریعہ ہے جس سے ہمارے دِل میں رِقَّت پیدا ہو گی، دِل میں اللہ پاک کا خوف آئے گا اور ہم رَبِّ کریم کی پکڑ سے ڈر کر توبہ بھی کرتے رہیں گے اور آیندہ گُنَاہوں سے بچتے بھی رہیں گے۔
حضرت امام حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ جو بہت بڑے وَلِیُّ اللہ تھے، آپ کی سیرت میں ہے کہ آپ سے بچپن میں ایک گُنَاہ ہو گیا تھا، حالانکہ نابالغ بچے کا گُنَاہ اَعْمال نامے میں لکھا نہیں جاتا، اس کے باوُجُود آپ نے اس گُنَاہ کو یاد رکھا، آپ کی عادت تھی کہ جب بھی نئے کپڑے سِلْواتے تو گریبان پر وہ گُنَاہ لکھ لیتے، پِھر اسے دیکھ دیکھ کر شرمندگی سے آنسو بہاتے رہتے تھے۔ ([1])
اللہ اکبر! کیا نِرالا اَنداز ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گُنَاہوں کو ہمیشہ یاد رکھیں، انہیں سوچ سوچ کر اللہ پاک کے عذاب سے، اُس کی پکڑ سے ڈرتے رہا کریں، ایسا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! توبہ کی تَوْفِیْق بھی ملتی رہے گی اور آیندہ گُنَاہوں سے بچنے کا ذہن بھی بنا رہے گا۔
گناہوں کی نحوست بڑھ رہی ہے دم بدم مولیٰ
میں توبہ پر نہیں رہ پارہا ثابِت قدم مولیٰ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami