Share this link via
Personality Websites!
عَلَیْہ ِالسَّلام نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولا: میں اِبْلیس ہوں۔ فرمایا: یہ ٹوپی جو تُو نے پہن رکھی تھی، یہ کیا ہے؟ بولا: یہ میرے وہ جال ہیں جو میں اَوْلادِ آدم پر ڈالتا ہوں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام نے پوچھا: یہ بتاؤ! وہ کونسی بُرائی ہے کہ جب آدمی وہ بُرائی کر لے تو تُو اس پر قابُو پا لیتاہے۔ شیطان بولا: جب آدمی خُودپسندی میں مُبْتَلا ہو( یعنی خُود پر اِترا جائے ) اور اپنے گُنَاہوں کو بُھول جائے، تب میں اُس پر غلبہ پا لیتا ہوں۔ ([1])
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! اِس روایت سے مَعْلُوْم ہوا کہ خود سَری میں مُبْتَلا ہو کر اپنے گُنَاہوں کو بُھول جانا بھی شیطان کے جال میں پھنس جانے کا سبب ہے۔ واقعی یہ حقیقت ہے، جب آدمی اپنے گُنَاہوں کو بُھول جاتا ہے تو وہ خُود پر اِترا جاتا ہے اور اللہ پاک کی خُفیہ تَدبیر سے بےخوف ہو کر مُطْمَئِن ہو جاتا ہے، اور یہ اِطْمینان اور بےخوفی وہ چیز ہے جو شیطان کا کام آسان کر دیتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت اپنے گُنَاہوں کو اپنے پیشِ نظر رکھیں۔
مشہور مفسرِ قرآن، حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اپنی نیکیوں کو بُھول جانا اور گُنَاہوں کو یاد رکھنا عِبَادت ہے۔ ([2])
افسوس! ہمارے ہاں اس کا اُلٹ رِواج ہے،لوگ نیکیاں یاد رکھتے ہیں، گُنَاہ بُھول جاتے ہیں *ایک دِن کی پڑھی ہوئی تہجد یاد رہتی ہے، 50دِن کی قضا کی ہوئی نمازیں یاد نہیں ہوتیں *بعض لوگ بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے ہیں: اس بار میں نے رَمْضَان کریم کے 10 روزے رکھے، کوئی انہیں بتائے کہ بھائی! آپ نے 20 روزے قضا کر دئیے!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami