Share this link via
Personality Websites!
اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ(۱۷) (پارہ:8، سورۂ اعراف:16-17)
داہنے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
اللہ اکبر! یہ بدبخت باقاعِدَہ اِعْلان کر رہا ہے کہ میں صِراطِ مستقیم (یعنی سیدھے راستے پر، نمازوں کے رستے پر، روزوں کے رستے پر، تِلاوت کی راہوں پر، نیکیوں کی راہ) پر جم کر بیٹھوں گا اور بندوں پر آگے سے، پیچھے سے، دائیں، بائیں، ہر طرف سے وار کروں گا اور انہیں بہکاتا رہوں گا۔
محبوبِ خُدا! سر پہ اَجل آ کے کھڑی ہے شیطان سے عطاؔر کا ایمان بچا لو!([1])
پتا چلا؛ شیطان ہمارا انتہائی سخت تَرِین دُشمن ہے اور یہ باقاعِدَہ عَزْم باندھے ہوئے ہے کہ انسانوں کو بہکائے گا ہی بہکائے گا۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں شیطان کے بہکاوَوں سے بچنا چاہیے، یہ ہمارا سب سے بڑا دُشمن ہے، اسے دُشمن ہی جاننا چاہیے۔ ظاہِر ہے اگر ہم اس کے ہتھکنڈوں اور جالوں کو سمجھ نہیں پائیں گے تو اس کی چالوں سے بچ کیسے سکیں گے؟ لہٰذا آئیے! شیطان خبیث کے کچھ جال سُنتے ہیں اور ان سے بچنے کا عَزْم کرتے ہیں:
(1): شیطان کا دروازہ: اِستغفار سے غَفلت
حضرت عبد الرحمٰن بن زیاد رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت موسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام تشریف فرما تھے، سامنے سے ایک شخص آتا ہوا دِکھائی دیا، اس نے سَر پر رنگ برنگی ٹوپی پہن رکھی تھی، جب وہ قریب آیا تو اس نے وہ ٹوپی اُتار دی، حضرت موسیٰ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami