Share this link via
Personality Websites!
طرف بڑھ جانا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم۔
پیارے اسلامی بھائیو! صُلْح حُدَیْبِیَہ سے ہمیں دوسرا سبق یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہمیں کاموں میں تدبِیر اپنانی چاہیے۔ تدبیر کا معنیٰ ہے: اَلنَّظْرُ فِی عَاقِبَۃِ الْاَمْرِ یعنی کام کے نتیجے کو کام کرنے سے پہلے سوچنا۔([1])
دیکھیے! صُلْح حدیبیہ کے موقع پر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سخت شرائط کو دیکھ رہے تھے مگر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اس صُلْح کے نتیجے میں ملنے والی فتحِ مبین (روشن فتح) پر نظر فرما رہے تھے۔ اس صُلْح کے نتیجے میں غیر مسلموں کے قریب آنے، اسلام کو سمجھنے اور دائرۂ اسلام میں داخِل ہو جانے کو دیکھ رہے تھے۔ پِھر اس تدبِیرِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا وہ نتیجہ نکلا کہ دُنیا حیران رہ گئی۔
اعمال کے بدلے سے غافِل نہ ہو جاؤ!
پتا چلا ؛ ہمیں بھی تدبیر اپنانی چاہیے۔ معذرت کے ساتھ عرض کر رہا ہوں؛ ہم لوگ اچھی تَدْبِیر نہیں کرتے، پِھر ناکامی ہوتی ہے تو اپنی ناکامیوں (Failures) کا اِلْزام تقدیر پر ڈال دیتے ہیں۔ *بَس جی قسمت ایسی تھی *تقدیر میں ہی یہی لکھا تھا *انسان کیا کر سکتا ہے، انسان کے بَس میں کیا ہے، جو اللہ پاک نے لکھ دیا، وہی ہونا ہے۔
میں اس بات کا اِنْکار نہ کر سکتا ہوں، نہ کروں گا، اَلحمدُ لِلّٰہ! ہم مسلمان ہیں، ہمارا سچّا، پکّا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami