Share this link via
Personality Websites!
(1): تعمیری کاموں پر تَوَجُّہ دیجیے!
اس سے پہلا سبق ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ اگر ہم بُرائی کو جَڑ سے نہ مٹا سکیں تو ہمیں وقتی طَور پر اس سے مُنہ پھیر کر، تعمیری کاموں میں لگ جانا چاہیے۔
آپ اس میں پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی حکمت و دانائی دیکھیے! اگر کفّارِ مکہ کے ساتھ یہ امن مُعَاہَدہ نہ ہوتا تو مسلمان جنگوں میں مَصْرُوف رہتے، دُور دراز قبیلوں تک اسلام کا پیغام نہ پہنچتا، دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کو خطوط لکھنے کا موقع نہ ملتا، لہٰذا آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے وقتی طَور پر کفّارِ مکہ کے سامنے امن معاہدے کی دِیوار کھڑی کر دی اور اپنے حقیقی مشن کو آگے بڑھا دیا۔
اسے کہتے ہیں: اِخْتلاف پر مقصد کو ترجیح دینا(یعنی Mission over Conflict)۔
ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے، ناکامیوں کا ایک بڑا سبب ہے جس کی طرف تَوَجُّہ نہیں دی جاتی، وہ کیا ہے؟ لوگ لڑائی جھگڑوں میں پَڑ کر اپنے اَصْل مقصد (Real aim) کو چھوڑ دیتے ہیں *مثلاً؛ بعض افراد یہ ٹھان لیتے ہیں کہ جب تک میں گھر سے فلمیں ڈرامے بند نہ کروا لُوں تب تک مجھے چین نہیں آئے گا، اب اس کے لیے کبھی بڑے بھائی سے جھگڑا، کبھی بہن کے ساتھ بدتمیزی، کبھی ماں کے ساتھ رُوٹھنا اور کبھی والِد صاحِب سے مُنہ پھیرنا، اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ گھر والے سمجھنے کی بجائے اُلٹا بدظَن ہو جاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہوتا ہے کہ آپ گھر والوں کو پیار محبّت سے، حکمتِ عملی کے ساتھ سمجھائیں، اگر سمجھ جائیں تو ٹھیک، ورنہ ان کے اس کام کو دل میں بُرا جانتے ہوئے عارضِی طَور پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami