Share this link via
Personality Websites!
بادشاہوں کے نام خط روانہ فرمائے، انہیں اِسْلام کی دعوت دی۔ غرض؛ اس صُلْح کے بعد ہی سے اِسْلام کی روشنی دُور دُور تک پھیلنا شروع ہو گئی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صِرْف 3 سال کے عرصے کے بعد مکّہ بھی فتح ہو گیا اور اِسْلام کی روشنی بھی پھیل گئی۔ عُلَمائے کرام لکھتے ہیں: ان 3 سالوں میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے کہ اس سے پہلے اتنے نہیں ہوئے تھے، ان تین سالوں میں اِسْلام کو وہ ترقی اور عُرُوج مِلا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں مِلا تھا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یہ تھا پیارے آقا، رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی حکمت و دانائی اور تدبیر کا وہ شاہکار جس نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا۔ مولانا حَسَؔن رضا خان صاحب رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں نا؛
کام جو اُن سے ہُوا، پُورا ہوا
اُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے([2])
یعنی پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جس کام کی طرف بھی رُخ فرما لیتے ہیں، وہ انجام تک پہنچ جاتا ہے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان یہ ہے کہ کسی کام کے لیے جو حکمتِ عملی ترتیب دے دیتے ہیں، تقدیر کا قلم بھی اسی سمت کو چلنا شروع ہو جاتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
صلح حُدَیْبِیَہ سے ملنے والے 2سبق
پیارے اسلامی بھائیو! صُلْح حُدَیْبِیَہ کے اس واقعہ سے ویسے تو بہت سارے سبق سیکھنے کو ملتے ہیں، البتہ! اپنے موضُوع کی مناسبت سے میں صِرْف 2باتیں عرض کرتا ہوں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami