Share this link via
Personality Websites!
(WisePerson) بھی اسے سمجھ نہیں پائے تھے مگر یہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی حکمت و تدبیر اور دُور اندیشی کا بہت اعلیٰ تَرِین فیصلہ تھا۔ جب یہ مُعَاہَدہ ہو چکا تو اللہ پاک نے اسی صُلْح کے مُتَعَلِّق فرمایا:
اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) (پارہ:26، سورۂ فتح:1)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔
یعنی اے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! یہ صُلْح جسے بظاہِر شکست سمجھا جا رہا ہے، اس صُلْح کے پردے میں ہم نے آپ کے لیے روشن فتح رکھ دی ہے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! اس صُلْح میں کیا حکمت تھی، یہ کچھ ہی عرصہ بعد واضِح ہونا شروع ہو گئی، عُلَمائے کرام لکھتے ہیں: *پہلے اَہْلِ اسلام اور کفّار کے درمیان جنگ تھی، لہٰذا غیر مسلموں کو اَہْلِ اسلام کے قریب آنے کا موقع نہیں ملتا تھا، جب یہ صُلْح ہوئی تو غیر مُسْلِم مسلمانوں کے پاس آنے جانے لگے، ان کے طور طریقے، آدابِ زندگی قریب سے دیکھنے لگے، قرآنِ کریم کی آیات سننے لگے، اس کی بَرَکت سے ان کے دِلوں میں اِسْلام کی روشنی پھیلنا شروع ہو گئی *یونہی دُوْر و نزدیک کے وہ قبیلے جو قریشِ مکّہ کے خوف کے سبب مسلمانوں سے دُور تھے، وہ بھی قریب آنے لگے *مزید یہ کہ اس سے پہلے مسلمانوں کو کفّارِ مکّہ کے خطرے ہی سے فرصَت نہیں ملتی تھی، اِس صُلْح کے بعد یہ خطرہ فی الحال ٹَل گیا، چنانچہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے رُوم و اِیْران وغیرہ دُور دُور کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami