Share this link via
Personality Websites!
اس جگہ پر جَو حیرت انگیز بات سامنے آتی ہے وہ یہ تھی کہ اس معاہدے میں مسلمانوں پر سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں اور غیر مسلموں کو بہت چُھوٹ دی گئی تھی، مثلاً؛ اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مدینہ کا کوئی شخص مکّہ آجائے تو اَہْلِ مکّہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں مگر مکّے سے کوئی مسلمان مدینے چلا جائے تو مسلمان اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے بلکہ واپس مکّہ بھیجنا ہو گا۔
یہ ایسی سخت شرطیں تھیں کہ بظاہِر کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔
حضرت فارُوقِ اعظم اور جوشِ اِیْمانی کا مظاہَرہ
یہاں تک کہ اُمّت کے بہت بڑے مُدَبِّر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: اَلَسْتَ نَبِیَّ اللہ حَقّاً (یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم!) کیا آپ سچے نبی نہیں ہیں؟ حضور جانِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : بَلٰی کیوں نہیں ...؟(ضرورمیں سچا نبی ہوں)۔عرض کیا: اَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَ عَدُوُّ نَا عَلَی الْبَاطِلِ کیا ہم حق پر اور ہمارا دُشمن باطِل پر نہیں ہے...؟ فرمایا: بَلٰی کیوں نہیں۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ عنہ نے عرض کیا: فَلِمَ نُعْطِی الدُّنِیَّۃَ فِی دِیْنِنَا یعنی جب یہ حال ہے تو ہم اپنے دِین میں کمتری کیوں آنے دیں (یعنی ہم غیر مسلوں کی ایسی سخت شرائط کیوں تسلیم کریں؟) پیارے رسول، رسولِ مَقْبول صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِنِّی رَسُوْلُ اللہ وَ لَسْتُ اُعْصِیْہِ وَ ہُوَ نَاصِرِیْ یعنی اے عمر! میں اللہ کا رسول ہوں، میں اللہ پاک کی نافرمانی نہیں کرتا، وہی میرا مددگار ہے۔([1])
یعنی اس صُلْح کے اندر جو رَاز تھا، بظاہِر حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ جیسے مُدَبِّر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami