Share this link via
Personality Websites!
یعنی قَصْوا اُونٹنی کا یُوں خِلافِ مَعْمُول(Unusually) بیٹھ جانا ایک خُدائی اِشارہ تھا کہ یہ مبارَک قافِلہ مکہ پاک کی طرف نہ بڑھے بلکہ یہیں حُدَیبِیَہ میں ہی ٹھہر جائے۔
اِدھر یہ مسلمانوں کا قافلہ حُدَیْبِیَہ میں ٹھہرا، اُدھر کفّارِ مکّہ سمجھے کہ شاید مسلمان جنگ کے اِرادے سے آئے ہیں، چنانچہ انہوں نے بھی جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ خیر! واقعہ لمبا ہے، میں ذرا مختصر کر رہا ہوں، اب دونوں جانِب سے ایک دوسرے کی طرف قاصِد بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ مَعْلُوم ہو سکے کہ غیر مسلم کیا چاہتے ہیں اور مسلمان کیا چاہتے ہیں، سب سے پہلے بُدَیْل نامی شخص غیر مسلموں کی جانِب سے قاصِدبن کر حاضِر ہوا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اَہْلِ مکّہ کو بتا دو کہ ہم جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم تَو بَس عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، عمرہ کر کے واپس چلے جائیں گے۔
لیکن غیر مسلم بدنصیب اس بات پر بھی راضِی نہ ہوئے، وہ کسی صُورت بھی اس حق میں نہیں تھے کہ مسلمان مکّہ میں داخِل ہوں، خیر! مُذاکرات کا سلسلہ جارِی تھا، اسی دوران سُہَیل بن عَمرو نامی شخص غیر مسلموں کی جانِب سے قاصِد بن کر حاضِر ہوا، جب یہ حُدَیْبِیَہ پہنچا تو پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: لَو سُہَیل (یعنی آسانی والا) آ گیا ہے اب تمہارا معاملہ آسان ہو جائے گا۔
سُہیل نے آتے ہی کہا: اے مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! اگر آپ جنگ نہیں چاہتے، امن چاہتے ہیں تو آئیے! ہم مِل کر شرائط طَے کر لیتے ہیں۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دَیْر تک سُہَیل کے ساتھ بیٹھے شرائط(Terms & Conditions) پر گفتگو فرماتے رہے، آخر دونوں جانِب سے شرائط طَے پا گئیں اور امن معاہدہ لکھ کر اس پر دستخط (Sign) کر دئیے گئے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami