Share this link via
Personality Websites!
جانا غیر مناسب اور خطرناک ہوتا تھا، لہٰذا فرمایا: جو راستے پر رُک جائے اور خُود اپنے آپ کو خطرات پر پیش کر کے دُعائیں کرے: یا اللہ پاک ! مجھے خطرات سے بچا لے۔ فرمایا: ایسے کی بھی دُعا قبول نہیں ہوتی۔
(3): وہ جو اپنا جانَور خُود چھوڑ دے، اب دُعا کرے: اے اللہ پاک! اسے رَوک دے۔ اس کی بھی دُعا قبول نہیں کی جاتی۔([1]) کیونکہ خُوَیْشْتَنْ کَرْدَہ رَا عِلاجِ نَیْست یعنی اپنے ہاتھوں کی کمائی کا کوئی عِلاج نہیں ہوتا۔
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ ذِکْر کی ہوئی حدیثِ پاک لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: *اسی طرح جو شخص گھر پر مُنہ پھیلائے بیٹھ جائے اور کہے: اے اللہ پاک مجھے رِزْق دے *جو اپنا مال فضول خرچیوں میں اُڑا دے، پِھر کہے: مالِک! مجھے اور عطا فرما *جو ظالموں کے بیچ رہے اور کہے: مولیٰ! مجھے ان کے ظُلم سے مَحْفُوظ فرما *اسی طرح جو رات کے سنّاٹے میں اکیلا نکلے اور چاہے کہ چور اُچکوں سے مَحْفُوظ رہے *جو رات کو دروازہ کھلا چھوڑ دے *برتن بِسْمِ اللہ پڑھ کر، ڈھانک کر نہ رکھے اور چاہے کہ اس کے برتن بیماریوں سے مَحْفُوظ رہیں *جو بغیر ہاتھ دھوئے سو جائے کہ اس کے ہاتھ کو شیطان چاٹتا ہے اور بَرْص(Vitiligo) کی بیماری ہو جانے کا اندیشہ ہے *بغیر باؤنڈری وال والی چھت پر سو جائے اور چاہے کہ میں سوتے میں نہ گِرُوں۔ تو ان سب کی اِن مُعَاملات میں دُعائیں قبول نہیں کی جاتیں، کیونکہ انہوں نے اَسْباب اور تَدْبِیر کو چھوڑ کر دُعا کی۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami