Share this link via
Personality Websites!
کہ دیکھتا ہوں اللہ پاک کے نام میں کتنی طاقت ہے...؟ یہ بہت سخت بات ہے۔ ہمیں ایسے تدبیر چھوڑ کر تَوَکُّل نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ تَوَکُّل تو یہ ہے کہ آدمی اسباب اپنائے، اپنے اِخْتیار میں جو کچھ ہے، وہ کرے، پِھر نتیجہ اللہ پاک کے سِپُرد کر دے۔
لُومڑی بنے ہو، شیر کیوں نہ بنے...؟
شیخ سعدی رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک واقعہ لکھا ہے: ایک شخص تھا، وہ ایک مرتَبہ رَوزِی روٹی کی تلاش میں نکلا، راستے میں چلتے چلتے ایک جگہ جنگل کے قریب سے گزر ہوا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک لُومڑی ہے، پاؤں سے معذور ہے۔ وہ شخص دیکھ کر بڑا حیران ہوا، سوچ میں پَڑ گیا کہ یہ خُود تَو شکار کر نہیں سکتی، پِھر کھاتی پیتی کیسے ہو گی؟ چنانچہ یہ دیکھنے کے لیے وہاں چُھپ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک شیر وہاں پہنچا، اس کے مُنہ میں شِکار کیے ہوئے جانور کا گوشت تھا، شَیر نے گوشت لا کر لُومڑی کے سامنے رکھا، لُومڑی کھانے لگی، جب اس کا پیٹ بھر گیا تو باقی بچا ہوا شکار شَیر نے اُٹھایا اور ایک طرف بیٹھ کر خُود کھانے لگا۔
یہ دیکھ کر اس شخص کے اندر جذبہ جاگا، سوچنے لگا؛ جو اللہ پاک اس اپاہج لُومڑی کو رِزْق عطا فرما سکتا ہے، یقیناً مجھے بھی عطا فرمائے گا۔ یہ سوچ کر وہ شخص ایک مسجد میں جا کر بیٹھ گیا، بَس دِن رات اللہ اللہ کر رہا ہے، نمازیں پڑھ رہا ہے۔ دُعائیں کرتا ہے: اے اس اپاہج لُومڑی کو رِزْق دینے والے مالِکِ کریم! مجھے بھی رِزْق عطا فرما۔
ایک دِن گزرا، رِزْق نہیں آیا، دوسرا دِن گزرا، رِزْق نہیں آیا، تیسرا دِن بھی گزر گیا، اب تَو اس شخص کا بُھوک سے بُرا حال ہو گیا، آخر تڑپ کر اور رَو رَو کر بارگاہِ اِلٰہی میں دُعا کی۔ تب غیب سے آواز آئی: اے شخص! تُو نے لُومڑی کو دیکھا، شیر کو کیوں نہ دیکھا، تُو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami