Share this link via
Personality Websites!
نعمتوں کی برسات شروع ہو جائے گی *بعضوں کا ذِہن ہوتا ہے؛ چُونکہ میں نماز پڑھتا ہوں، لہٰذا میری دُکان میں چَوری نہیں ہو سکتی *چُونکہ میں تِلاوت کرتا ہوں، لہٰذا مجھے کوئی بڑی بیماری نہیں لگے گی *چُونکہ میں نے دُعائیں پڑھ لی ہیں، لہٰذا اَب کوئی مشقت نہیں آئے گی۔
ایک تَو ہے کہ بندے کا اللہ پاک پر یقین پختہ ہے، یہ تَو بہت اچھی بات ہے مگر ہم نیکی کرنے کے بعدبھی تدبیر کے محتاج ہیں، اب آدمی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر سَفَر کی دُعا تَو پڑھ لے مگر راستے میں وَن وِیلنگ(One Wheeling) شروع کر دے، پِھر کہے کہ میں نے دُعا پڑھی ہوئی ہے، لہٰذا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ تَو تَدْبِیر کو معطّل کرنے والی بات ہے۔
میں اللہ پاک کا امتحان نہیں لیتا
ایک مرتبہ اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام سے کسی نے پُوچھا: کیا آپ اللہ پاک پر تَوَکُّل (یعنی بھروسہ) رکھتے ہیں؟ فرمایا: ہاں! بالکل رکھتا ہوں۔ کہا: پِھر اس سامنے والے پہاڑ پر چڑھ کر خُود کو نیچے گِرا دیجیے! دیکھتے ہیں، آپ کا رَبّ آپ کو بچاتا ہے کہ نہیں بچاتا۔ آپ علیہ السَّلام نے بڑا خوبصُورت جواب دیا، فرمایا: میں اللہ پاک پر تَوَکُّل ضرور رکھتا ہوں مگر اس کا امتحان نہیں لیتا۔ ([1])
دیکھیے! پیارے اسلامی بھائیو! کتنی سمجھنے کی بات ہے، ہمیں بھی غور کرنا چاہیے کہ خدانخواستہ ہم بھی کہیں اللہ پاک کا امتحان لینے کی جسارت تو نہیں کر رہے، مثلاً؛ *نماز پڑھنے جا رہے ہیں، دُکان کھلی چھوڑ دی کہ دیکھتا ہوں نماز کی برکت سے دُکان مَحْفُوظ رہتی ہے کہ نہیں رہتی؟ *گاڑی کو لاک(Lock) نہیں لگایا اور یاجَلِیْلُ کا وِرْد کر کے چلے گئے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami