Share this link via
Personality Websites!
چلتا ہے اور اللہ پاک کا حکم اَکْثَر طَور پر ہمارے اَعْمال کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے، جیسے ہم کام کرتے ہیں، ویسا نتیجہ نکل آتا ہے۔
اس لیے پیارے اسلامی بھائیو! اپنی ناکامی کا الزام تقدیر پر ڈالنا، بیکار میں بدشگونیاں لینا، اِن باتوں سے نکل کر ہمیں اپنی تدبیر پر غور کرنا چاہیے۔ ہر کام میں اچھی تدبیر کیجیے! پھر معاملہ اللہ پاک کے سپرد کر دیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! کامیابی قدم چومے گی۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ-فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ- (پارہ: 4، سورۂ آلِ عمران: 159)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو، پھر جب کسی بات کا پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔
یہ کسی بھی جائِز کام میں کامیابی (Success) پانے کا نصاب ہے، 2کام ہم نے کرنے ہیں: (1):مُشَاوَرَت؛ یہ اچھی تَدْبِیر کا حِصّہ ہے (2):اللہ پاک پر بھروسہ کرنا۔
گویا ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی کام کے لیے بہترین انداز میں تَدْبِیر کرو! اس کے لیے دوسروں سے مشورے بھی کر لو، جب یہ کر چکو تو اللہ پاک پر بھروسہ کر کے اس کام میں لگ جاؤ! رَبِّ کریم تمہیں کامیابیوں سے نوازے گا۔
ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: (یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! جب میں کسی معاملے میں حیران ہو جاؤں، کچھ سمجھ نہ آرہی ہو کہ کیا کرنا ہے تو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami