Share this link via
Personality Websites!
ہوئے اعمال ہی کا بدلہ دیا جارہا ہے۔
سُورۂ شُورٰی میں تو اللہ پاک نے بالکل صاف فرما دیا:
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ (پارہ:25، سورۂ شوریٰ:30)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔
پتا چلا؛ نتیجہ ہمارے اَعْمال کا نکلتا ہے، ہمیں جو مصیبت پہنچتی ہے، چاہے وہ ناکامی کی صُورت میں ہو، تنگدستی کی صُورت میں ہو، پریشانی کی صُورت میں ہو، حادثات کی صُورت میں ہو، زیادہ تَر یہ مصیبتیں ہمیں ہمارے اَعْمال کے نتیجے میں ملتی ہیں۔ لہٰذا ہر ناکامی کا اِلْزام تقدیر پر ڈالنے کی بجائے بہتر ہے کہ ہم اپنی تَدْبِیر پر غور کیا کریں۔ اگر کسی کام میں ہمیں ناکامی ہوئی ہے تَو ضرور ہم کہیں غلطی کر گئے ہوں گے، اس غلطی کو پہچاننے کی عادَت بنانی چاہیے۔
اب تَو خیر حالات بہت بگڑ چکے ہیں، لوگ تقدیر پر بھی اِلْزام کم لگاتے ہیں، اپنی ناکامی کا سارا وبال کالی بِلّی پر ڈال دیتے ہیں *کالی بِلّی رستہ کاٹ گئی تھی *گھر چلانے کا فَن خُود کو نہیں آتا ، شادِی ناکام ہو گئی، لڑائی جھگڑے اور طلاق تک بات پہنچ گئی تو اِلْزام صَفر کے مہینے پر کہ صَفَر کا مہینا مَنْحُوْس ہے، لہٰذا شادِی چَل نہیں پائی *گاڑی خُود ٹھیک سے نہیں چلا رہے تھے، دورانِ ڈرائیونگ(Driving) کال سُن رہے تھے، اَوور سپیڈ(Over speed) چل رہے تھے مگر خدانخواستہ ایکسیڈنٹ(Accident) ہو گیا تو اِلْزام ایمبولینس(Ambulance) کی آواز پر ڈال دیا کہ گھر سے نکلتے ہی ایمبولینس کی آواز سُن لی تھی، لہٰذا یہ مسئلہ ہو گیا *سَفر پر جانے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami