Share this link via
Personality Websites!
عقیدہ ہے:
وَ الْقَدْرِ خَیْرِہٖ و َ شَرِّہٖ مِنَ اللہ تَعَالٰی
ترجمہ: ہر اچھی اور بُری تقدیر اللہ پاک کی جانِب سے ہے۔
مگر ہمیں مُکافاتِ عمل (اعمال کے نتیجے) سے بھی غافِل نہیں ہونا چاہیے۔ بیشک ہمارے اَعْمال نتیجہ دیتے ہیں۔ آپ قرآنِ کریم پڑھیے! اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۱۱۷) (پارہ:4، سورۂ آل عمران:117)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
یعنی جو ناکامی اور تباہی کا شکار ہوئے، اُن پر اللہ پاک نے کوئی ظُلم نہیں کیا، رَبِّ رحمٰن و رحیم تو کسی کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا، اَصْل میں لوگوں نے خُود اپنی جانوں پر ظُلْم کر لیے، خُود گُنَاہ کمائے، خُود کامیابی کی شرائط پُوری نہ کیں، لہٰذا نتیجہ ناکامی اور تباہی نکلا۔
ایک مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:
وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْۚ- (پارہ:1، سورۂ بقرۃ:134)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔
ایک مقام پر فرمایا:
لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ- (پارہ:3، سورۂ بقرہ:286)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: كسی جان نے جو اچھاکمایا وہ اسی کے لیےہے اور کسی جان نے جو بُرا کمایا اس کا وبال اسی پر ہے ۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:
هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ(۵۲) (پارہ:11، سورۂ یونس:52)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تمہیں تمہارے کمائے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami