Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! جن کو یہ دُنیا ملی اور خُوب ملی، کثرت سے ملی، جن کو اِخْتیارات دئیے گئے، جن کے اُوپَر نیچے، آگے پیچھے دُنیا ہی دُنیا تھی، سارِی زندگی اس دُنیا کے اندر گزار کر، آخر انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کا نتیجہ کیا نکالا، نچوڑ کیا نکالا، تھوڑا اُس نچوڑ پر غور کیجیے! *خلیفہ عبد الملک بن مروان بڑے ٹھاٹھ والا بادشاہ تھا، جب اس کا آخری وقت آیا تو کسی نے پوچھا: اس وقت آپ خُود کو کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ عبد الملک بن مروان بولا: بالکل ویسا ہی محسوس کر رہا ہوں، جیسا قرآنِ کریم نے فرمایا :
وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ- (پارہ:7، سورۂ انعام:94)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اورتم اپنے پیچھے وہ سب مال و متاع چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا۔
یہ آیت پڑھتے ہی اس کا دَم نکل گیا۔([1])
*خلیفہ ہارُونُ الرَّشید بھی بہت رُعب و دبدبے والا بادشاہ تھا، جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنا کفن منگوایا اور اسے اُلٹ پلٹ کر کے بار بار دیکھنے لگا، پِھر یہ آیت پڑھی: ([2])
مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸) هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹) (پارہ:29،سورۂ حَاقَّہ:28، 29)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔میرا سب زور جاتا رہا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami