Share this link via
Personality Websites!
وقت بھی اُن جیسا بننے کی تمنّا نہیں کرتے۔
اِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ فِينَا عِبَرًا وَاِنَّا لَنَرَى فِيهِمْ غِيَرًا
ترجمہ: بیشک وہ ہم میں عبرت اور نصیحت پاتے ہیں، جبکہ ہم ان کے حالات کو دیکھ کر دُنیا کی نیرنگی (بدلتی دُنیا کے بدلتے رنگ) دیکھتے ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو!یہ دُنیا بے وفا ہے، جسے ملتی ہے، اسے بھی کھا جاتی ہے، جسے نہیں ملتی، اُس کو اپنی طلب میں لگا کر ضائع کر دیتی ہے۔ اچھا اور سمجھدار وہ ہے جو اس سے مُنہ پھیر کر اللہ پاک کی طرف چل پڑتا ہے۔ آپ دیکھیے! اس دُنیا کی حقیقت ہمیں قبرستان جا کر نظر آتی ہے، عبرتناک بات ہے یہ...!! حضرت مالِک بن دِینار رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بِشْر بن مروان جو حکمران تھا، اس کی وفات ہوئی تو دَفن کر دیا گیا، کچھ ہی دِن کے بعد اَسْوَد نامی ایک شخص کی وفات ہوئی، اس کی قبر بِشر بن مَروان کی قبر کے پاس ہی بنائی گئی۔ فرماتے ہیں: تھوڑے ہی عرصے کے بعد ان کی قبروں کے پاس سے میرا گزر ہوا، دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا، میں نہیں پہچان پا رہا تھا کہ بِشر کی قبر کونسی ہے اور اَسْوَد کی کونسی ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو!یہ ہے دُنیا کی حقیقت...! آپ قبرستان چلے جائیے! خُود آنکھوں سے دیکھ لیجیے! بلکہ ہم دیکھتے رہتے ہیں: ارب پتی کو بھی اسی مٹی میں دفن کر دیا جاتا ہے، اور 2 وقت کی روٹی کے لیے ترسنے والے کو بھی اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے۔ بالآخر یہی حقیقت ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami