Share this link via
Personality Websites!
چیزوں کو دیکھتے تھے، اُن کے مُنہ میں پانی آیا، دِل رشک اور حسرت سے بیتاب ہوئے، کہنے لگے: واہ! وا...!! کیا شان و شوکت ہے،کاش! ہمیں بھی ایسے خزانے ملے ہوتے۔
مگر اگلے ہی دِن جب قارُون اپنے غرور، تکبر اور گُنَاہوں کے سبب اپنے خزانے سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا گیا، اب وہ رشک کرنے والے، آدھی آنکھ سے دیکھنے والے، اب اُن کی آنکھیں پُوری کھل گئیں، اب بولے:
لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَاؕ- (پارہ:20، سورۂ قصص:82)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:اگر الله ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔
یعنی خُدا کا کرم ہو گیا...!! شکر ہے ہمیں ایسا خزانہ نہیں ملا، ورنہ ہم بھی زمین کے اندر دھنس جاتے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو!دیکھیے! جب آدمی کی پُوری آنکھیں کھل جاتی ہیں، جب آخری لمحات پر بھی غور ہو جاتا ہے، تب حسرتیں ہی بدل جاتی ہیں، زاویۂ نگاہ ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔
بِشْر بن مَروان ایک حکمران تھا، اس کا جب آخری وقت آیا تو کہنے لگا: خُدا کی قسم! میرا دِل چاہتا ہے کہ کاش! میں ایک حبشی غُلام ہوتا، پُورے شہر میں سب سے بُرے حالات میرے ہی ہوتے، میں بکریاں چرایا کرتا، کاش! میں حکمران نہ ہوتا۔
جب یہ خبر حضرت شقیق بلخی رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس پہنچی تو آپ نے فرمایا:
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَهُمْ يَفِرُّونَ اِلَيْنَا وَ لَا نَفِرُّ اِلَيْہِمْ
ترجمہ: خُدا کا شکر ہے کہ یہ لوگ آخری وقت ہم جیسے بننے کی خواہش کرتے ہیں مگر ہم کسی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami